Main Icon

باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5590

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "لَا يَدْخُلُ أَحَدٌ الْجَنَّةَ إِلَّا أُرِيَ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ لَوْ أَسَاءَ لِيَزْدَادَ شُكْرًا، وَلَا يَدْخُلُ النَّارَ أَحَدٌ إِلَّا أُرِيَ مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ لَوْ أَحْسَنَ لِيَكُونُ عَلَيْهِ حَسْرَةً". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "لا يدخل أحد الجنة إلا أري مقعده من النار لو أساء ليزداد شكرا، ولا يدخل النار أحد إلا أري مقعده من الجنة لو أحسن ليكون عليه حسرة". رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ کوئی جنت میں داخل نہ ہوگا مگر پہلے اسے اس کا دوزخی ٹھکانہ دکھایا جاوے گا اگر وہ جرم کرتا ۱∞؎تاکہ وہ زیادہ شکر کرے اور کوئی آگ میں نہ جاوے گا مگر اسے اس کاجنتی ٹھکانہ دکھایا جاوے گا اگر وہ نیکیاں کرتا تاکہ اس پر حسرۃ ہو جاوے ۲؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎ہرشخص کے لیے دو ٹھکانے مقرر ہیں ایک دوزخ میں،دوسرا جنت میں،مؤمن اپنا اور کافر کا جنتی مقام لے گا اور کافر دوزخ میں اپنا اور مسلمان کے مقام کو سنبھالے گا۔یہاں قبر کے امتحان میں کامیاب ہوجانے پر دکھایا جاوے گا،پھر قیامت میں دکھانا مراد ہے جیساکہ مضمون ہے اور عذاب قبر کے باب میں خود قبر میں دکھانے کا ذکر تھا۔۲؎مؤمن کی خوشی کی انتہاء نہ رہے گی اور کافر کے رنج و غم بے حد ہوجائیں گے آگ کی تکلیف اور جنت کا گھر چھوٹ جانے کا صدمہ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5590