Main Icon

باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5598

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "شَفَاعَتِي لِأَهْلِ الْكَبَائِرِ مِنْ أُمَّتِي". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ.

وعن أنس أن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: "شفاعتي لأهل الكبائر من أمتي". رواه الترمذي وأبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ میری شفاعت میری امت کے گناہ کبیرہ والوں کے لیے ہے ۱∞؎(ترمذی،ابوداؤد،)

شرح حدیث

۱∞؎ہم پہلے عرض کرچکے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت بہت قسم کی ہے جن میں سے ایک شفاعت گناہ کبیرہ والوں کے لیے ہے یہاں وہ ہی شفاعت مراد ہے یعنی معافی گناہ کی شفاعت۔اس سے معلوم ہوا کہ جس کا خاتمہ بالخیر ہوگیا وہ شفاعت کا حقدار ہوگیا اگرچہ کیسا ہی گنہگار ہو۔جس حدیث میں ہے کہ ہم زکوۃ نہ دینے والوں کی شفاعت نہ کریں گے وہاں منکرین زکوۃ مراد ہیں جو کافر و مرتد ہیں کہ فرض کا انکار کفر ہے۔جب گناہ کبیرہ والوں کی شفاعت ہوگی تو زکوۃ نہ دینا گناہ صغیرہ ہے اس کی شفاعت کیوں نہ ہوگی۔خیال رہے کہ سواء چند گناہوں کے باقی گناہ صغیرہ ہیں۔دیکھو مرآت جلد اولباب الکبائر۔یہ حدیث بڑی ہمت افزا ہے،حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا سے فرمایا کہ میں تم سے عذاب دفع نہیں کرسکتا وہاں یہ ہی مطلب ہے کہ اگر تم نے ایمان قبول نہ کیا تو شفاعت سے محروم رہوگی۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ شفاعت عقلًا جائز ہے اور شرعًا واجب کہ اس پر بہت آیات واحادیث وارد ہیں۔ہم نے شفاعت کی مکمل بحث تفسیرنعیمی میں"مَنۡ ذَا الَّذِیۡ یَشْفَعُ عِنْدَہٗۤ اِلَّا بِاِذْنِہٖ"میں کی ہیں وہاں ملاحظہ کرو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5598