Main Icon

باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5584

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "لَيُصِيبَنَّ أَقْوَامًا سَفْعٌ مِنَ النَّارِ بِذُنُوبٍ أَصَابُوهَا عُقُوبَةً، ثُمَّ يُدْخِلُهُمُ اللَّهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِهِ وَرَحْمَتِهِ فَيُقَالُ لَهُمُ: الْجَهَنَّمِيُّونَ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

وعن أنس أن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: "ليصيبن أقواما سفع من النار بذنوب أصابوها عقوبة، ثم يدخلهم الله الجنة بفضله ورحمته فيقال لهم: الجهنميون". رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ کچھ قوموں کو ان کے کیے ہوئے گناہوں کی وجہ سے آگ کی لپٹ پہنچے گی ۱∞؎سزا کے طور پر پھر الله انہیں جنت میں داخل فرمادے گا اپنے فضل اپنی رحمت سے انہیں جہنمی کہا جاوے گا۲؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎ایسی لپٹ پہنچے کہ جس سے ان کے چہرے جھلس تو جائیں گے مگر بالکل جلیں گے نہیں۔سفعکے معنی ہیں حرق قلیل تھوڑی سی جلن۔۲؎مگر انہیں اس نام سے خوشی ہوگی کہ رب تعالٰی کی بخشش رحمت انہیں یاد آئے گی،رنج مطلقًا نہ ہوگا کہ جنت میں رنج کیسا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5584