Main Icon

باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5611

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "يَشْفَعُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثَلَاثَةٌ: الأَنْبِيَاءُ، ثُمَّ الْعُلَمَاءُ، ثُمَّ الشُّهَدَاءُ". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ.

وعن عثمان بن عفان قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "يشفع يوم القيامة ثلاثة: الأنبياء، ثم العلماء، ثم الشهداء". رواه ابن ماجه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عثمان ابن عفان سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے قیامت کے دن تین جماعتیں شفاعت کریں گی انبیاء،پھر علماء،پھر شہید لوگ ۱∞؎(ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎اس ترتیب میں علماء کو شہداء پر مقدم رکھا گیا ہے کیونکہ علماء کے دوات کی روشنائی جس سے وہ دینی تحریر و تصنیف کریں وہ شہیدوں کے خون سے افضل ہے جیسا شیرازی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ابن عبدالبر نے حضرت ابوالدرداء سے ابن جوزی نے حضرت نعمان ابن بشیر سے مرفوعًا روایت کی۔(مرقات)شہید اپنے ستر عزیزوں دوستوں کی شفاعت کرے گا۔خیال رہے کہ یہاں خاص شفاعت مراد ہے ورنہ ہر نیک مسلمان گنہگاروں کی شفاعت کرے گا۔(اشعۃ اللمعات)بلکہ مسلمانوں کے چھوٹے بچے،کعبہ معظمہ،قرآن،ماہ رمضان بھی شفاعت کریں گے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5611