Main Icon

باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5600

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "أَتَانِي آتٍ مِنْ عِنْدِ رَبِّي، فَخَيَّرَنِي بَيْنَ أَنْ يُدْخِلَ نِصْفَ أُمَّتِي الْجَنَّةَ وَبَيْنَ الشَّفَاعَةِ، فَاخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ، وَهِيَ لِمَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ.

وعن عوف بن مالك قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "أتاني آت من عند ربي، فخيرني بين أن يدخل نصف أمتي الجنة وبين الشفاعة، فاخترت الشفاعة، وهي لمن مات لا يشرك بالله شيئا". رواه الترمذي وابن ماجه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عوف ابن مالک سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میرے پاس رب تعالٰی کے پاس سے آنے والا آیا تو مجھے اختیار دیا ۱∞؎اس کا کہ میری آدھی امت جنت میں داخل فرمائے اور درمیان شفاعت کے۲؎تو میں نے شفاعت اختیار فرمائی یہ شفاعت اس شخص کے لیے ہے جوکسی چیز کو الله کا شریک نہ ٹھہرائے۳؎(ترمذی،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی حضرت جبریل امین یا کوئی اور فرشتہ یہ حکم رب العالمین کا ہمارے پاس پیغام لایا جس میں مجھے اختیار دیا۔سبحان الله!الله تعالٰی ہمارے حضور کو ان سے پوچھ کر دیتا ہے،یہ ہے محبوبیت"وَ لَسَوْفَ یُعْطِیۡکَ رَبُّکَفَتَرْضٰی∞"۔شعر
خدا کی رضا چاہتے ہیں دو عالم خدا چاہتا ہے رضاء محمد
۲
؎اس طرح کہ محبوب تم جتنوں کی شفاعت کرو اتنوں کو بخش دوں،پہلے صورت میں حد بندی ہے اس میں بے حد عطا کا وعدہ ہے اس لیے حضور انور نے اسی کو اختیار فرمایا کہ میرے مولٰی میں بخشواتا جاؤں تو بخشتا جا۔شعر
قدرت کی تحریریں جانے امُی اور تقریریں جانے
بخشش کی تدبیریں جانےوہ ہے رحمت والا جن کا نام ہے محمد ان سے دو جگ ہے اجیالا
۳
؎یہاں شرک سے مراد کفر ہے،کسی یقینی عقیدہ اسلامیہ کا انکار کفر ہے۔خیال رہے کہ خوارج بعض معتزلہ اور اسمٰعیلی وہابی شفاعت کے انکاری ہیں وہ بالکل ٹھیک کہتے ہیں واقعی ان بدنصیبوں کی شفاعت نہ ہوگی خوارج اور معتزلہ کا انکارِ شفاعت تو مرقات میں اس جگہ ہے اور اسماعیلیہ کا انکار تقویۃ الایمان میں دیکھو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5600