Main Icon

باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5568

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِنَّ حَوْضِي أَبْعَدُ مِنْ أَيْلَةَ مِنْ عَدَنٍ لَهُوَ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ الثَّلْجِ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ بِاللَّبَنِ، وَلآنِيَتُهُ أَكْثَرُ مِنْ عَدَدِ النُّجُومِ،وَإِنِّي لأَصُدُّ النَّاسَ عَنْهُ كَمَا يَصُدُّ الرَّجُلُ إِبِلَ النَّاسِ عَنْ حَوْضِهِ". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَتَعْرِفُنَا يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: "نَعَمْ لَكُمْ سِيمَاءُ لَيْسَتْ لِأَحَدٍ مِنَ الأُمَم، تَرِدُونَ عَلَيَّ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ أَثَرِ الْوُضُوءِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "إن حوضي أبعد من أيلة من عدن لهو أشد بياضا من الثلج، وأحلى من العسل باللبن، ولآنيته أكثر من عدد النجوم،وإني لأصد الناس عنه كما يصد الرجل إبل الناس عن حوضه". قالوا: يا رسول الله! أتعرفنا يومئذ؟ قال: "نعم لكم سيماء ليست لأحد من الأمم، تردون علي غرا محجلين من أثر الوضوء". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ میرا حوض زیادہ بڑا ہے ایلہ سے عدن تک کے فاصلہ سے ۱∞؎وہ برف سے زیادہ سفید ہے شہد سے زیادہ میٹھا جو دودھ سے مخلوط ہو۲؎اس کے برتن تاروں کے شمار کے ہیں اور میں دوسرے لوگوں کو اس سے روکوں گا جیسے کوئی شخص دوسرے لوگوں کے اونٹ کو اپنے حوض سے روکتا ہے۳؎صحابہ نے عرض کیا یارسول الله کیا اس دن آپ ہم کو پہچان لیں گے فرمایا ہاں تمہاری وہ نشانی ہوگی جو کسی دوسری امت کی نہ ہوگی۴؎تم میرے پاس آثار وضو کی وجہ سے روشن منہ پنج کلیان آؤ گے۵؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎ایلہ شام اور یمن کا سرحدی شہر ہے کوہ طور کے پاس واقع ہے،یہاں شام کا علاقہ ختم ہوجاتا ہے اور عدن وسط شام میں ہے وہاں کا دارالخلافہ ہے بحر ہند پر واقع ہے ان دونوں شہروں میں بڑا فاصلہ ہے۔خیال رہے بعض روایات میں عدن و عمان کا ذکر ہے،بعض میں صنعاء اور مدینہ منورہ فرمایا گیا،یہ تمام فرمان سمجھانے کے لیے ہیں قطعی حد بندی کے لیے نہیں جیسا آدمی ویسے اس سے خطاب۔جن صاحبوں کو ایلہ اور عدن کے فاصلہ کی خبر تھی ان سے ان دونوں شہروں کا ذکر فرمایا،جنہیں دوسرے مذکورہ شہروں کی خبرتھی ان سے وہ شہر بیان فرمائے لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔۲؎برف سفید بھی ہوتی ہے ٹھنڈی بھی وہاں کا پانی بھی ایسا ہی ہوگا اس لیے برف سے تشبیہ دی۔دودھ شہد سے مخلوط ہوکر بڑا لذیذ ہوتا ہے اس لیے اس سے تشبیہ دی،یہ تشبیہیں صرف سمجھانے کے لیے ہیں ورنہ دنیا کی کوئی چیز حوض کوثر کے پانی کی طرح نہیں ہوسکتی۔۳؎ظاہر یہ ہے کہ یہاں دوسرے لوگوں سے مراد مرتدین و منافقین ہیں جو مسلمانوں کے علاوہ ہیں اور ہوسکتا ہے کہ اس سے دوسری امتوں کے مؤمنین مراد ہوں کیونکہ ہر نبی کا حوض الگ ہوگا ان میں اپنی امت ہی ان کے حوض پر پیئے گی۔فقیر کے نزدیک دوسرے معنی قوی ہیں یعنی دنیا میں کوئی شخص دوسرے کےاونٹوں کو اپنے حوض پر پانی نہیں پینے دیتا تاکہ جانور مخلوط نہ ہوجاویں ایسے ہی وہاں ہوگا۔۴؎یعنی قیامت میں ساری امتوں کے مؤمنین جمع ہوں گے پھر کیا آپ اپنی امت کے مؤمنوں کو پہچانیں گے۔اس سوال سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں دوسری امتوں کو دور فرمانے کا ذکر ہے۔۵؎اگرچہ ساری امتوں کے مؤمنین وضو کرتے تھے مگر آثار وضو سے اعضاء کا چمکنا صرف تمہارے لیے ہوگا۔خیال رہے کہ حضور کا پہچاننا اس پر موقوف نہ ہوگا یہ علامات تو عام کے پہچاننے کی ہے۔حضور کی امت میں بعض وہ لوگ ہیں جو وضو فرض ہونے سے پہلے فوت ہوگئے جیسے اولین مؤمنین یا چھوٹے بچے یا دیوانے یا بے نماز مسلمان یا وہ لوگ جو مسلمان ہوتے ہی فوت ہوگئے حضور انہیں بھی پہچانیں گے حالانکہ نہ انہوں نے کبھی وضو کیا تھا نہ ان کے چہروں پر وضو کا پانی پہنچا تھا،ان کی پہچان نور نبوت سے فرمائیں گے،یہ حدیثباب فضل الوضومیں گزرچکی۔حق یہ ہے کہ گزشتہ نبوتوں میں وضو تھا مگر وضو کا یہ اثر صرف امت مصطفوی کے لیے ہے جیسا قاسم ویسی تقسیم،ڈول کی تقسیم اور رہٹ کی اور ٹیوب ویل کی تقسیم اور ہے،پانی ایک ہے تقسیم مختلف،نمازوضو ایک ہے مگر نتیجہ مختلف۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5568