Main Icon

باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5604

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "يُصَفُّ أَهْلُ النَّارِ، فَيَمُرُّ بِهِمُ الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَيَقُولُ الرَّجُلُ مِنْهُمْ: يَا فُلَانُ! أَمَا تَعْرِفُنِي؟ أَنَا الَّذِي سَقَيْتُكَ شَرْبَةً. وَقَالَ بَعْضُهُمْ: أَنَا الَّذِي وَهَبْتُ لَكَ وَضُوءًا، فَيَشْفَعُ لَهُ فَيُدْخِلُهُ الْجَنَّةَ". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ.

وعنه قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "يصف أهل النار، فيمر بهم الرجل من أهل الجنة، فيقول الرجل منهم: يا فلان! أما تعرفني؟ أنا الذي سقيتك شربة. وقال بعضهم: أنا الذي وهبت لك وضوءا، فيشفع له فيدخله الجنة". رواه ابن ماجه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ دوزخی لوگ صف بستہ ہوں گے ۱∞؎تو جنتیوں میں سے ایک شخص ان پرگزرے گا تو ان میں سے ایک دوزخی کہے گا اے فلاں کیا تو مجھے پہچانتا نہیں میں وہ ہی ہوں جس نے تجھے ایک گھونٹ پانی پلایا تھا اور بعض دوزخی کہے گا کہ میں وہ ہوں جس نے وضو کا پانی دیا تھا۲؎یہ جنتی ان کی شفاعت کرے گا پھر اسے جنت میں داخل کرے گا۳؎(ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی جنتیوں کے راستے میں گنہگار مؤمن دوزخ میں جانے کے لیے ایسے صف بستہ کھڑے ہوں گے جیسے امیر وغنی کے راہ میں بھکاری صفت بستہ کھڑے ہوتے ہیں۔(مرقات)ان سے آس لگائے کہ کوئی ہمیں پہچان لے اور چھڑائے ادھر جنتی آگے پیچھے گزر رہے ہوں گے۔۲؎یا میں نے تجھے فلاں وقت کھانا کھلایا،یا میں نے تجھے فلاں وقت سلام کیا تھا،یا فلاں وقت کپڑا دیاتھا،یا فلاں وقت تیرے پاس محبت سے کچھ معمولی ہدیہ پیش کیا تھا۔غرضکہ ڈوبتا ہوا تنکے کا سہار الیتا ہے یہ بھی اسی طرح سہارا لے گا،یہ دو چیزیں بطور مثال ارشاد ہوئی ہیں۔(مرقات)۳؎اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ صالحین،علماء،شہداء کی شفاعت برحق ہے۔دوسرے یہ کہ شفاعت سے ہم جیسے گنہگاروں کی تقدیریں پلٹ جائیں گی،دیکھو یہ پکارنے والا دوزخیوں کی صف میں آگیا تھا شفاعت کی برکت سے وہاں سے نکل کر جنتی ہوگیا دنیا میں بھی یہ ہی حال ہے دعا سے قضا بدل جاتی ہے۔تیسرے یہ کہ ہم جیسے گنہگاروں کو چاہیے کہ صالحین مقبولین کی خدمت کیا کریں ان کی خدمت بڑی کام آوے گی،ان سے تعلق رکھیں ان سے تعلق بہت فائدہ دے گا،انہیں ہدیہ پیش کریں اگرچہ کھجور کی کھانپ یا اچھی بات ہی ہو،یہ تیسری بات مرقات اور اشعہ نے فرمائی۔چوتھے یہ کہ رب تعالٰی کی قدرت یہ ہے کہ ہر ایک کو براہ راست بغیر وسیلہ ہر چیز دے مگر قانون یہ ہے کہ گنہگاروں کو نیک کاروں کے وسیلے سے دے،دیکھو ان دوزخی صفوں والوں کو رب تعالٰی ہی بخشے گا مگر جنتی راہ گزروں کی شفاعت سے بلکہ ان لوگوں کوجنتیوں کے راستہ میں اسی لیے کھڑا کرے گا کہ انہیں ان کے ہاتھوں شفاعت کی بھیک ملے۔پانچویں یہ کہ دنیا میں الله والوں سے تعلق چاہیے،ان کا دیکھنا بھی کل قیامت میں کام آوے گا۔شعر
اُٹھ جاگ فریدا ستیا خلقت ویکھن جا مت کوئی بخشیا مل پوے تے تو وی بخشیا جا
دیکھو قیامت میں یہ جان پہچان کام آوے گی۔
یدخلہ الجنۃفرماکر یہ بتایا کہ وہ جنتی اس دوزخی کو اپنے ساتھ جنت میں لے جاوے گا۔شعر
میں مجرم ہوں آقا مجھے ساتھ لے لو کہ رستہ میں ہیں جا بجا تھانے والے
چھٹے یہ کہ قیامت میں لوگوں کو اپنے اچھے برے اعمال یاد ہوں گے،یہاں کی دوستیاں آپس کے سلوک یاد ہوں گے، ایک دوسرے کی پہچان ہوگی۔
ساتویں یہ کہ وفات یافتہ بزرگوں کی فاتحہ ختم وغیرہان شاءاللهقیامت میں کام آوے گی کہ اس میں بھی ان حضرات کی خدمت میں کھانے پانی وغیرہ کا ثواب ہدیہ کیا جاتا ہے۔ممکن ہے کہ انکے ذریعہ ہم کو ان کی شفاعت نصیب ہو جاوےسقیتك شربۃیہ الفاظ یاد رکھو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5604