Main Icon

باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5578

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ أُنَاسًا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "نَعَمْ هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ صَحْوًا لَيْسَ فِيهَا سَحَابٌ؟" قَالُوا: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: " مَا تَضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا كَمَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ أَحَدِهِمَا إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ أَذَّنَ مُؤَذِّنٌ لِيَتَّبِعْ كُلُّ أُمَّةٍ مَا كَانَتْ تَعْبُدُ فَلَا يَبْقَى أَحَدٌ كَانَ يعبد غيرالله مِنَ الْأَصْنَامِ وَالْأَنْصَابِ إِلَّا يَتَسَاقَطُونَ فِي النَّارِ حَتَّى إِذَا لَمْ يَبْقَ إِلَّا مَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ مِنْ بَرٍّ وَفَاجِرٍ أَتَاهُمْ رَبُّ الْعَالَمِينَ قَالَ: فَمَاذَا تَنْظُرُونَ؟ يَتْبَعُ كُلُّ أُمَّةٍ مَا كَانَت تعبد. قَالُوا: ياربنا فَارَقْنَا النَّاسَ فِي الدُّنْيَا أَفْقَرَ مَا كُنَّا إِلَيْهِم وَلم نصاحبهم "

وعن أبي سعيد الخدري أن أناسا قالوا يا رسول الله هل نرى ربنا يوم القيامة؟ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "نعم هل تضارون في رؤية القمر ليلة البدر صحوا ليس فيها سحاب؟" قالوا: لا يا رسول الله قال: " ما تضارون في رؤية الله يوم القيامة إلا كما تضارون في رؤية أحدهما إذا كان يوم القيامة أذن مؤذن ليتبع كل أمة ما كانت تعبد فلا يبقى أحد كان يعبد غيرالله من الأصنام والأنصاب إلا يتساقطون في النار حتى إذا لم يبق إلا من كان يعبد الله من بر وفاجر أتاهم رب العالمين قال: فماذا تنظرون؟ يتبع كل أمة ما كانت تعبد. قالوا: ياربنا فارقنا الناس في الدنيا أفقر ما كنا إليهم ولم نصاحبهم "

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے کہ کچھ لوگوں نے عرض کیا یارسول الله کیا ہم قیامت کے دن اپنے رب کو دیکھیں گے رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا ہاں ۱∞؎کیا تم صاف دوپہری میں جب سورج کے ساتھ بادل نہ ہو سورج کے دیکھنے میں شک کرتے ہو۲؎اور کیا تم چودھویں صاف رات میں جب کہ چاند کے ساتھ بادل نہ ہو چاند دیکھنے میں شک کرتے ہو عرض کیا یارسول الله نہیں۳؎فرمایا تم قیامت کے دن الله کے دیدار میں شک نہیں کرو گے مگر ایسا جیسے ان دونوں میں سے ایک کے دیکھنے میں شک کرتے ہو۴؎جب قیامت کے دن ہوگا تو اعلانچی اعلان کرے گا کہ ہر گروہ اس کے پیچھے جائے جس کی وہ پرستش کرتا تھا ۵؎تو جو بھی الله کےسوا بتوں اور پتھروں کی عبادت کرتے تھے اسمیں کوئی نہ بچے گا مگر دوزخ میں گرجائیں گے ۶؎حتی کہ جب ان نیک بندوں کے سواء جو الله کی عبادت کرتے تھے کوئی نہ بچے گا تو انکے پاس رب العالمین آئے گا ۷؎فرمائے گا تم کیا انتظارکررہے ہو ہر امت اپنے معبود کے ساتھ جارہی ہے ۸؎پھر عرض کریں گے یارب ہم نے دنیا میں ان لوگوں کوچھوڑ ے رکھا جب کہ ہم ان کے بہت حاجت مند تھے اور ہم انکے ساتھ نہ رہے ۹؎

شرح حدیث

۱∞؎خیال رہے کہ قیامت میں حساب کے وقت سارے بندے رب کو دیکھیں گے مؤمن ہویا کافر مگر مؤمن بہ شان رحمت دیکھیں گے اور کافر بہ شان غضب جیساکہ پچھلی حدیث میں گزرچکا۔پھر اس کے بعد جنتی تو رب تعالٰی کو دیکھا کریں گے کوئی تو جب چاہیں اور کوئی روز ایک بار،کوئی ہفتہ میں ایک بار،کوئی مہینہ میں،کوئی سال میں ایک بار،کوئی اس سے زیادہ عرصہ میں مگر دوزخی لوگ دیدار سے محروم رہیں گے،رب تعالٰی فرماتاہے:"اِنَّہُمْ عَنۡ رَّبِّہِمْ یَوْمَئِذٍ لَّمَحْجُوۡبُوۡنَ"جنتیوں کے بارے میں فرماتاہے:"اِلٰی رَبِّہَا نَاظِرَۃٌغالبًا یہاں سوال قیامت کے دن کے دیدار کے متعلق ہے جنتی عورتوں،فرشتوں،مغفور جنات کے متعلق اختلاف ہے۔بعض کہتے ہیں انہیں بھی دیدار ہوگا بعض کہتے ہیں نہیں ہوگا۔(مرقات)۲؎تضارونباب مفاعلہ کا مضارع معروف ہے،ضار یضار مضارۃکے معنی ہیں اژدھام اور بھیڑ میں پھنس جانا،پھر شک کے معنی میں استعمال ہونے لگا کیونکہ بھیڑ میں کوئی چیز صحیح نہیں دیکھی جاتی۔صحوکی معنی ہیں صاف جب کہ آسمان پر بادل نہ ہو تو اسے صحو کہتے ہیں۔۳؎سبحان الله!کیسی پیاری تشبیہ ہے جس میں یقینی دیدار کی مثال دے کر سمجھایا گیا۔خیال رہے کہ قمر عام ہے اور ہلال،بدر، محق خاص ہے۔۴؎مطلب یہ ہے کہ ان دونوں کے دیکھنے میں تو شک ہوتا نہیں تو یقینًا رب تعالٰی کے دیدار میں بھی شک نہیں ہوگا۔۵؎خیال رہے کہ قیامت میں رب کا دیدار دوبار ہوگا پہلی بار تو حساب کے وقت جیساکہ پہلے گزرچکا دوسری بار حساب سے فارغ ہوکر،یہ دوسرا دیدار صرف مسلمانوں کو ہی ہوگا کفار کو نہ ہوگا جیساکہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے لہذا یہ حدیث پچھلی احادیث کے خلاف نہیں۔اس موقعہ پر بت پرستوں کے تمام بت حتی کہ سورج،چاند بھی وہاں موجود ہوں گے۔خیال رہے کہ حضرت عیسیٰ و مریم کو عیسائیوں نے اور حضرت عزیر کو یہود نے نہیں پوجا بلکہ ان کے فوٹوؤں کو اور صلیب کو پوجا تھا وہ لوگ ان تصویروں اور صلیب کے ساتھ دوزخ میں جائیں گے لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ پھر تو چاہیے کہ یہ حضرات بھی دوزخ میں جائیں انہیں یہود یا عیسائیوں نے پوجا تھا۔۶؎بتوں میں سورج چاند بھی داخل ہیں کہ ان کی پرستش بھی ہوتی تھی۔خیال رہے کہ یہ چیزیں دوزخ میں جائیں گی مگر سزا پانے کے لیے نہیں بلکہ دوزخیوں کو سزا دینے کے لیے حتی کہ سورج کی گرمی آگ کی گرمی سے مل کر ان لوگوں کی تکلیف کو اور بھی زیادہ کردے گی لہذا اس حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ ان پتھروں بتوں کو بلا قصور دوزخ میں کیوں ڈالا گیا اسی طرح دوزخ میں مقرر شدہ فرشتے عذاب دیں گے عذاب پائیں گے نہیں۔۷؎رب تعالٰی کے آنے سے مراد ہے اس کا حکم آنا یا یہ متشابہات میں سے ہے،اس ظاہری آنے جانے سے رب پاک ہے۔۸؎یعنی تم لوگ بھی ان سے کسی کے ساتھ کیوں نہیں جاتے،رب تعالٰی کا یہ سوال اس کی بے علمی کی بنا پر نہیں بلکہ اس جواب کے لیے ہے جو وہ دے رہے ہیں۔خیال رہے کہ مشرکین تو اپنے معبودوں کے ساتھ دوزخ میں جائیں گے مؤمن اپنے نبیوں کے ساتھ اور یہ امت اپنے حضور محمد مصطفی صلی الله علیہ و سلم کے ساتھ جنت میں جاوے گی۔رہے. توحیدی کفاریا دھریے کفار جو بت پرستی نہیں کرتے تھے انہیں فرشتے ہانک کر دوزخ میں ڈالیں گے لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ دھریے اور توحیدئیے کفار کس کے ساتھ جائیں۔۹؎یعنی جب ہم دنیا میں کفار سے الگ رہے تو اب بھی ان سے الگ ہی رہیں گے وہاں تو ہم کو ان کے ساتھ رہنے کی ضرورت بھی تھی یہاں تو ہم ان سے بے نیاز ہیں ان کے ساتھ ہم کیوں جائیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5578