Main Icon

باب:نذروں کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3433

آزادی کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ اسْتَفْتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَذْرٍ كَانَ عَلَى أُمِّهِ فتوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَهُ، فَأَفْتَاهُ أَنْ يَقْضِيَهُ عَنْهَا. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن ابن عباس: أن سعد بن عبادة استفتى النبي صلى الله عليه وسلم في نذر كان على أمه فتوفيت قبل أن تقضيه، فأفتاه أن يقضيه عنها. متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ سعد ابن عبادہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے اس نذر کے متعلق پوچھا جو ان کی ماں پرتھی ۱؎پھر وہ نذرپوری کرنے سے پہلے وفات پاگئیں تو انہیں فتویٰ دیا کہ ان کی طرف سے ادا کریں۔(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎غالب یہ ہے کہ نذر غیر مشروط تھی اور مالی تھی۔چنانچہ دارقطنی میں یوں ہے کہ حضرت سعد سے حضور نے فرمایا کہ اپنی ماں کی نذر پوری کروان کی طرف سے لوگوں کو پانی پلادو۔معلوم ہوا کہ کنواں کھدوانے کی نذرتھی۔خیال رہے کہ میت کی بدنی نذر جیسے روزہ،نماز وارث ادا نہیں کرسکتا۔مالی نذر اگر میت نے مال چھوڑا ہے اور اس نذر کے پورا کرنے کی وصیت کی ہے تو وارث پر پورا کرنا واجب ہے،اگر وصیت نہیں کی یا مال نہیں چھوڑا ہے تو وارث پر یہ نذربھی پوری کرنا واجب نہیں،ہاں بہتر ہے کہ پوری کر دے،یہاں دونوں احتمال ہیں،اگر ام سعد نے مال چھوڑا تھا اور وصیت بھی کی تھی تو یہ امر وجوب کے لیے ہے اگر ان دونوں میں سے ایک بات بھی نہ تھی تو یہ امراستحبابی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3433