Main Icon

باب:نذروں کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3427

آزادی کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ نَذَرَ أَنْ يُطِيعَ اللّٰهَ فَلْيُطِعْهُ، وَمَنْ نَذَرَ أَنْ يَعْصِيَهُ فَلَا يَعْصِهِ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

وعن عائشة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "من نذر أن يطيع الله فليطعه، ومن نذر أن يعصيه فلا يعصه". رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جو شخص اکی اطاعت کی نذر مانے وہ اس کی اطاعت کرے ۱؎اور جو اس کی نافرمانی کی نذر مانے وہ نافرمانی نہ کرے ۲؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎کیونکہ اتعالٰی کی عبادت تو ویسے بھی کرنی چاہیےاور جب نذر مان لی تو بدرجہ اولیٰ کرنی چاہیے۔
۲
؎خیال رہے کہ جو کام بذات خود گناہ ہو اس کی نذر درست ہی نہیں جیسے شراب پینے،جوا کھیلنے،کسی مسلمان کو ناحق قتل کرنے کی نذر کہ ایسی نذریں باطل ہیں ان کا پوراکرنا حرام مگر ان پر کفارہ واجب ہے کہ یہ کام ہرگز نہ کرے اور کفارہ ادا کرے،اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے کہ اس نے رب تعالٰی کے نام کی بے حرمتی کی مگر جو کام کسی عارضہ کی وجہ سے ممنوع ہوں ان کی نذر درست ہے یا ان کی قضا کرے یا کفارہ دے جیسے عید کے دن کے روزے یا طلوع آفتاب کے وقت نفل پڑھنے کی منت کہ یہ منت درست ہے،یہ ہی مذہب احناف ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3427