Main Icon

باب:نذروں کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3437

آزادی کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ قَالَ: نَذَرَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْحَرَ إِبِلًا بِبُوَانَةَ، فَأَتَى رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "هَلْ كَانَ فِيهَا وَثَنٌ مِنْ أَوْثَانِ الْجَاهِلِيَّةِ يُعْبَدُ؟ " قَالُوا: لَا، قَالَ: "فَهَلْ كَانَ فِيهِ عِيدٌ مِنْ أَعْيَادِهِمْ؟ " قَالُوا: لَا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "أَوْفِ بِنَذْرِك، فَإِنَّهُ لَا وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِي مَعْصِيَةِ اللّٰهِ، وَلَا فِيمَا لَا يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

وعن ثابت بن الضحاك قال: نذر رجل على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم أن ينحر إبلا ببوانة، فأتى رسول الله صلى الله عليه وسلم فأخبره، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "هل كان فيها وثن من أوثان الجاهلية يعبد؟ " قالوا: لا، قال: "فهل كان فيه عيد من أعيادهم؟ " قالوا: لا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "أوف بنذرك، فإنه لا وفاء لنذر في معصية الله، ولا فيما لا يملك ابن آدم". رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ثابت ابن ضحاک سےفرماتے ہیں کہ کسی شخص نے رسول اصلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ میں نذر مانی کہ مقام بوانہ میں اونٹ ذبح کرے گا ۱؎پھر وہ رسول اصلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ کو یہ خبردی۲؎تب رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ کیا وہاں جاہلیت کے بتوں سےکوئی بت تھا جس کی پوجا ہوتی تھی لوگوں نے کہا نہیں،فرمایا کیا وہاں ان کے میلوں سے کوئی میلہ لگتا تھا لوگ بولے نہیں۳؎تب رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اپنی نذر پوری کرو۴؎کیونکہ نہ تو اکے گناہ میں نذر درست ہے اور نہ اس میں جس کا انسان مالک نہ ہو ۵؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎بوانہ دو ہیں:ایک تو مکہ معظمہ کے قریب جگہ ہے یلملم پہاڑ سے متصل،دوسرا ملک فارس میں مگر فارس والی جگہ کا نام بوّان ہے بغیرہ کے،واؤ کے شد سےیہاں پہلی جگہ مراد ہے۔(مرقات)
۲
؎اور حضور سے مسئلہ پوچھا کہ یہ نذر پوری کروں یا نہیں۔
۳
؎ان سوالات سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان کو چاہیے کہ کفار کی مشابہت سے بچے،ان کی مذہبی شعار اور قومی علامات اختیار نہ کرے،کفار کی مذہبی علامات اختیارکرناکفرہے اور ان کی قومی علامات اختیارکرنا حرام،زنّار باندھنا،سر پر چوٹی رکھنا کفر ہے،ہندوؤں کی دھوتی،عیسائیوں کا ہیٹ استعمال کرنا حرام،اگر بوانہ میں بت ہوتا جہاں مشرکین اس کی بھینٹ کے لیے جانور ذبح کرتے ہوتے تو وہاں ان صحابی کو جانور ذبح کرنا کفر ہوتا،اگر وہاں ان کا میلہ لگتا ہوتا جہاں وہ جانور ذبح کرتے ہوتے اور یہ ذبح ان کا قومی نشان ہوتا تو وہاں ذبح کرنا ان صحابی کو حرام ہوتا۔خیال رہے کہ عرس بزرگان کفار کے میلے نہیں،یہاں کفار کے میلوں کا ذکر ہے لہذا وہابیوں کا اسے عرس وغیرہ پر چسپاں کرنا حماقت ہے ورنہ پھر جلسوں کے مجمعوں میں جانور ذبح کرنا حرام ہونا چاہیے۔
۴
؎اس سے معلوم ہوا کہ جوشخص کسی خاص جگہ قربانی کرنے یا خاص جگہ کے فقراء پر صدقہ کرنے کی نذر مانے تو اسے پورا کرے۔ (مرقات)تو جو مسلمان حرمین شریفین کے فقراء پر صدقہ،کسی بزرگ کے مزار کے پاس رہنے والے مسکینوں پرخیرات کرنے کی منت مانے وہ اسے پوراکرے وہاں ہی کے فقراء کو دے،کسی بزرگ کے مزار پر ذبح کی نذر مانے تو وہاں ہی ذ بح کرے۔
۵
؎مگر فرق یہ ہوگا کہ گناہ کی نذر میں کفارہ واجب ہوگا اور غیرمملوکہ چیز کی نذر میں نہ پوراکرنا واجب نہ کفارہ لازم۔(مرقات)لہذا اگر کوئی نذر مانے کہ میں فلاں کی بکری قربانی کردوں گا نذر درست نہیں،اگر وہ اس بکری کو خرید بھی لے تب بھی اس کی قربانی واجب نہ ہوگی نہ کفارہ ہوگا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3437