Main Icon

باب: والیوں کی روزی اور ان کے تحفے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3753

حاکم اور قاضی بننے کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: "لَعَنَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّاشِيَ وَالْمُرْتَشِيْ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ، وَابْنُ مَاجَهْ.

وعن عبد الله بن عمرو قال: "لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الراشي والمرتشي". رواه أبو داود، وابن ماجه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبدابن عمرو سے فرماتے ہیں کہ لعنت فرمائی رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے پر ۱؎(ابوداؤد،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎راشیرشوت دینے والا اورمرتشیرشوت قبول کرنے والا،رشوۃبنا ہےرشاءبمعنی رسی سے،رسی کنویں سے پانی نکالنے کا ذریعہ ہوتی ہے،ایسے ہی رشوت کا مال ناجائز فیصلہ کرانے اور اپنا کام نکالنے کا ذریعہ ہوتا ہے اس لیے اسے رشوت کہتے ہیں۔رشوت کی بہت صورتیں ہیں:حکام کی خصوصی دعوتیں،حکام کو ڈالیاں دینا، انہیں نقد روپیہ یا نیوتہ وغیرہ کے بہانے سے کچھ دینا،یہ سب رشوتیں ہیں۔خیال رہے کہ حق فیصلہ پر بھی فریقین میں سے کسی فریق سے کچھ لینا بھی رشورت ہے کہ حاکم پر حق فیصلہ کرنا شرعًا واجب تھا،پھر رشوت لےکر ناحق فیصلہ کرنا تو خدا کے قہر کا موجب ہے مگر ظلم سے بچنے کے لیے یا حق فیصلہ کرانے کے لیے رشوت دینا جائز ہے ۔
حضرت ابن مسعود نے زمین حبشہ کے جھگڑے میں وہاں کے حاکم کو دو دینار دے کر اپنے کو ظلم سے بچایا۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3753