Main Icon

باب: والیوں کی روزی اور ان کے تحفے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3750

حاکم اور قاضی بننے کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مُعَاذٍ قَالَ: بَعَثَنِيْ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ، فَلَمَّا سِرْتُ، أَرْسَلَ فِيْ أثَرِيْ، فَرُدِدْتُ فَقَالَ: "أَتَدْرِيْ لِمَ بَعَثْتُ إِلَيْكَ؟ لَا تُصِيْبَنَّ شَيْئًا بِغَيْرِ إِذْنِيْ، فَإِنَّهٗ غُلُوْلٌ وَمَنْ يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لِهٰذَا دَعَوْتُكَ فَامْضِ لِعَمَلِكَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

وعن معاذ قال: بعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى اليمن، فلما سرت، أرسل في أثري، فرددت فقال: "أتدري لم بعثت إليك؟ لا تصيبن شيئا بغير إذني، فإنه غلول ومن يغلل يأت بما غل يوم القيامة لهذا دعوتك فامض لعملك". رواه الترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت معاذ سے فرماتے ہیں مجھے رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے یمن کی طرف بھیجا جب میں چل دیا تو میرے پیچھے بلانے والے کو بھیجا تو میں لوٹایا گیا ۱؎فرمایا کیا تم جانتے ہوکہ میں نے تمہیں کیوں بلایا کوئی چیز میری اجازت کے بغیر نہ لینا کہ وہ خیانت ہے۲؎جو خیانت کرے گا تو قیامت کے دن خیانت کا مال لائے گا تمہیں اس لیے بلایا تھا اب اپنے کام پر جاؤ ۳؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎وہ فرمان عالی سنانے کے لیے جس کا ذکر آگے آرہا ہے۔
۲
؎اگرچہ یہ فرمان عالی پہلے بھی سنایا جاسکتا تھا مگر دوبارہ واپس لوٹانے اور پھر یہ سوال فرمانے میں کہ بتاؤ ہم نے تم کو کیوں لوٹایا،اہتمام مقصود ہے جو بات اس قدر اہمیت سے سنائی جائے وہ خوب یاد رہتی ہے۔
۳
؎اس سے معلوم ہوا کہ حکام اور والیوں کو سلطان اسلام کی طرف سے تقویٰ و طہارت کی نصیحت کرنا سنت ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3750