Main Icon

باب: والیوں کی روزی اور ان کے تحفے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3755

حاکم اور قاضی بننے کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَرَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَيْهَقِيُّ فِيْ "شُعَبِ الإِيْمَانِ" عَنْ ثَوْبَانَ، وَزَادَ: "وَالرَّائِشَ" يَعْنِي: الَّذِيْ يَمْشِيْ بَيْنَهُمَا.

ورواه أحمد، والبيهقي في "شعب الإيمان" عن ثوبان، وزاد: "والرائش" يعني: الذي يمشي بينهما.

حدیث ترجمہ

اور اسے احمدوبیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ثوبان سے روایت کیا اور یہ زیادہ کیا کہرائشسے مراد ہے جو ان دونوں کے درمیان کوشش کرے ۱؎

شرح حدیث

۱∞؎اگر یہ کلامرائشکی تفسیر و شرح ہے تو مطلب یہ ہے کہ یہاںرائشکے معنے رشوت دلوانے والا ہے یعنی حاکم کا ایجنٹ و دلال جو مقدمہ والوں سے خفیہ طور پر حاکم کو رشوت دلواتا ہے اور ہوسکتا ہے کہ یہ رائش کی تفسیر نہ ہو بلکہ توسیع ہو یعنی رائش میں وہ دلال بھی داخل ہے جو فریقین اور حکام کے درمیان دلالی کرکے رشوت دلاتا ہے۔بینہمامیںھماضمیرراشیاورمرتشیکی طرف راجع ہے۔خیال رہے کہ حرام کام کی دلالی اس کی کوشش بھی حرام ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3755