Main Icon

باب: والیوں کی روزی اور ان کے تحفے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3757

حاکم اور قاضی بننے کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِيْ أُمَامَةَ، أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ شَفَعَ لِأَحَدٍ شَفَاعَةً، فَأَهْدَى لَهٗ هَدِيَّةً عَلَيْهَا، فَقَبِلَهَا، فَقَدْ أَتَى بَابًا عَظِيْمًا مِنْ أَبْوَابِ الرِّبَا". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

عن أبي أمامة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "من شفع لأحد شفاعة، فأهدى له هدية عليها، فقبلها، فقد أتى بابا عظيما من أبواب الربا". رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو امامہ سے کہ رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جو کسی شخص کی کچھ سفارش کردے ۱؎پھر اسے اس سفارش پر کچھ ہدیہ دیا جائے ۲؎وہ اسے قبول کرلے تو وہ سود کے دروازوں ميں سے بڑے دروازہ پر آگیا ۳؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎سلطان یا حاکم کے پاس مگر سفارش حق کے لیے ہو ظلم کے لیے نہ ہو۔
۲
؎یعنی مقدمہ والا یا حاجت مند اسے اس سفارش کی بنا پر کوئی چھوٹی یا بڑی چیز بطور ہدیہ دے اور یہ اسے قبول کرے،سفارش کی بنا کی قید یاد رکھنا چاہیے۔
۳
؎یعنی یہ بھی رشوت ہےاور رشوت کا گناہ سود کے گناہ کی طرح ہے کہ سود خور کورسول سے جنگ کرنے کا اعلان فرمایا گیا ہے "فَاۡذَنُوۡا بِحَرْبٍ مِّنَ اللہِ وَرَسُوۡلِہٖ

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3757