Main Icon

باب :سبحان اللہ،الحمد للّٰه،لاالہ الا اللہ، اللہ اکبر کہنے کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2306

اللہ تعالٰی کے ناموں کابیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "أَفْضَلُ الذِّكْرِ: لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، وَأَفْضَلُ الدُّعَاءِ: اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ.

وعن جابر قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "أفضل الذكر: لا إله إلا الله، وأفضل الدعاء: الحمد لله ". رواه الترمذي وابن ماجه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے بزرگ ترین ذکرلا الہ الااللهہے ۱؎اور بزرگ ترین دعاالحمدللهہے۔ (ترمذی و ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎لا الہ الا اللهسے مراد پورا کلمہ شریف ہے یعنی مع محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ورنہ صرفلا الہ الا اللهتو بہت سے موحد کفار بلکہ ابلیس بھی پڑھتا ہے،وہ مشرک نہیں موحد ہے۔جس چیز سے مؤمن بنتے ہیں وہ ہے محمد رسول اللہ،چونکہ کلمہ شریف سے کفر کی گندگی دور ہوتی ہے،اسے پڑھ کر کافر مؤمن ہوتا ہے، اس سے دل کی زنگ دور ہوتی ہے،اس سے غفلت جاتی ہے،دل میں بیداری آتی ہے یہ حمد الٰہی و نعت مصطفوی کا مجموعہ ہے اس لیے یہ افضل الذکر ہوا۔صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ صفائی دل کے لیے کلمہ طیبہ اکسیر ہے۔
۲
؎دعا میں کریم کی تعریف اور اپنی عرض حاجت ہوتی ہےالحمدللهمیں یہ دونوں چیزیں موجود اسی لیےالحمدکو بہترین دعا فرمایا گیا۔جب مسکین سخی کے دروازے پر کھڑے ہوکر اس کی تعریف کرنے لگے تو سمجھو کچھ مانگ رہا ہے ،یوں ہی جب ہم فقیر رب کریم کے دروازے پر اس کی حمدوثنا کریں تو در پردہ اس سے مانگتے ہی ہیں۔سورۂ فاتحہ کوام القرآنکہتے ہیں کیونکہ یہالحمد للهسے شروع ہوتی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2306