Main Icon

باب :سبحان اللہ،الحمد للّٰه،لاالہ الا اللہ، اللہ اکبر کہنے کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2295

اللہ تعالٰی کے ناموں کابیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "لِأَنْ أَقُوْلَ: سُبْحَانَ اللّٰهِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ، وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، وَاللّٰهُ أَكْبَرُ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "لأن أقول: سبحان الله، والحمد لله، ولا إله إلا الله، والله أكبر، أحب إلي مما طلعت عليه الشمس". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے میراسبحان اﷲ،الحمدﷲاورلا الہ الا اﷲ واﷲ اکبرکہنا مجھے اس سب سے پیارا ہے جس پر سورج طلوع ہو ۱؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی یہ کلمات مجھے ساری دنیا سے پیارے ہیں کیونکہ دنیا فانی ہے اور ان کا ثواب باقی،نیز دنیا رب تعالٰی سے غافل کرنے والی ہے اور یہ سب رب تعالٰی کی یاد دلانے والے۔خیال رہے کہ"ما طلعت علیہ الشمس"سے مراد ساری دنیا ہے زمین یا زمین کی چیزیں ہوں یا آسمان اور آسمان کی چیزیں،رہا قرآن وحدیث ہماری عبادات وغیرہ اس سے علیحدہ ہیں کہ یہ چیزیں اگرچہ دنیا میں ہیں مگر دنیا نہیں نہ ان میں دنیا ہے لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ یہ کلمات اور ان کے پڑھنے پربھی تو سورج طلوع ہوتاہے اور یہ بھی تو دنیا میں ہیں۔صوفیاءفرماتے ہیں کہ دل دنیا میں رکھو مگر دل میں دنیا نہ رکھو ورنہ ہلاک ہوجاؤ گے،کشتی دریا میں رہے تو خیر ہے لیکن اگر دریا کشتی میں آجائے تو ہلاکت ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2295