Main Icon

باب :سبحان اللہ،الحمد للّٰه،لاالہ الا اللہ، اللہ اکبر کہنے کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2302

اللہ تعالٰی کے ناموں کابیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "من قَالَ: لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهٗ لَا شَرِيكَ لَهٗ، لَهُ المُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، فِي يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ كَانَتْ لَهٗ عَدْلَ عَشْرِ رِقَابٍ، وَكُتِبَتْ لَهٗ مِائَةُ حَسَنَةٍ، وَمُحِيَتْ عَنْهُ مِائَةُ سَيِّئَةٍ، وَكَانَتْ لَهٗ حِرْزًا مِنَ الشَّيْطَانِ يَوْمَهٗ ذٰلِكَ حَتّٰى يُمْسِيَ، وَلَمْ يَأْتِ أَحَدٌ بِأَفْضَلَ مِمَّا جَاءَ بِهٖ إِلَّا رَجُلٌ عَمِلَ أَكْثَرَ مِنْهُ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "من قال: لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك، وله الحمد، وهو على كل شيء قدير، في يوم مائة مرة كانت له عدل عشر رقاب، وكتبت له مائة حسنة، ومحيت عنه مائة سيئة، وكانت له حرزا من الشيطان يومه ذلك حتى يمسي، ولم يأت أحد بأفضل مما جاء به إلا رجل عمل أكثر منه". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے جو ایک دن میں سو بار یہ کہہ لے ۱؎کے اکیلے کے سواء کوئی معبود نہیں،اس کا کوئی شریک نہیں،اسی کا ملک ہے،اسی کی تعریف ہے،وہ ہر چیز پر قادر ہے،اس کے لیے دس۱۰ غلام آزاد کرنے کے برابر ہوگا ۲؎اور اس کے لیے سو نیکیاں لکھی جائیں گی اور اس کے سو گناہ معاف کئے جائیں گے اور اس دن دن بھر اس کی شیطان سے حفاظت ہوگی حتی کہ شام پالے ۳؎اور کوئی شخص اس سے بہتر افضل عمل نہ کرسکے گا اس کے سوا جو اس سے زیادہ یہ پڑھ لے ۴؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱؎خواہ ایک دم ایک ہی مجلس میں سو بار کہے یا مختلف اوقات اور مختلف مجلسوں میں۔غرضکہ چوبیس گھنٹے میں یہ شمار پوری کرے۔ (مرقات)
۲
؎یہاں مرقات نے فرمایا کہ یہ وہ کلمہ توحید ہے جس کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے:"مَثَلًاکَلِمَۃً طَیِّبَۃً کَشَجَرَۃٍ طَیِّبَۃٍ اَصْلُہَا ثَابِتٌ وَّفَرْعُہَا فِیۡ السَّمَآءِ
۳
؎اس سے اشارۃً معلوم ہورہا ہے کہ اگر بندہ رات میں یہ پڑھ لیا کرے تو صبح تک شیطان سے محفوظ رہے مگر چونکہ بندہ دن میں جاگتا ہے اور جاگتے ہی میں شیطان زیادہ گناہ کراتا ہے اس لیے دن کا ذکر فرمایا اگرچہ یہ کلمات ایک دم یا علیحدہ علیحدہ ہر وقت پڑھنا درست ہے لیکن صبح کے وقت ایک دم پڑھنا افضل ہے تاکہ دن بھر شیطان سے محفوظ رہے،یہ تاثیر تو سو بار پڑھنے کی ہے اگر اس سے زیادہ پڑھے تو زیادہ فائدہ ہوگا۔غرضکہ یہ عمل بہت ہی پر تاثیر ہے۔(مرقات)
۴
؎اس کی شرح پہلے گز رچکی ہے یعنی کوئی ورد وظیفہ پڑھنے والا نہ اس جیسا وظیفہ پڑھ سکے گا نہ اس جیسا ثواب وظیفہ پاسکے گا،یہ فضیلت دیگر وظیفوں سے ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2302