Main Icon

باب :سبحان اللہ،الحمد للّٰه،لاالہ الا اللہ، اللہ اکبر کہنے کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2315

اللہ تعالٰی کے ناموں کابیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "لَقِيْتُ إِبْرَاهِيمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِيْ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ! أَقْرِئْ أُمَّتَكَ مِنِّي السَّلَامَ، وَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ الْجَنَّةَ طَيِّبَةُ التُّرْبَةِ عَذْبَةُ الْمَاءِ، وَأَنَّهَا قِيعَانٌ،وَأَنَّ غِرَاسَهَا سُبْحَانَ اللّٰهِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ غَرِيْبٌ إِسْنَادًا.

وعن ابن مسعود قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "لقيت إبراهيم ليلة أسري بي فقال: يا محمد! أقرئ أمتك مني السلام، وأخبرهم أن الجنة طيبة التربة عذبة الماء، وأنها قيعان،وأن غراسها سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر". رواه الترمذي. وقال: هذا حديث حسن غريب إسنادا.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ شبِ معراج میں ہماری ملاقات ابراہیم علیہ السلام سے ہوئی ۱؎انہوں نے فرمایا یارسول اللہ اپنی امت کو میرا سلام فرمادیں ۲؎اور انہیں بتادیں کہ جنت کی زمین بہت زرخیز ہے وہاں کا پانی بہت شیریں جنت میں سفید زمین بہت ہے وہاں کے درخت یہ کلمات ہیں اللہ پاک ہے اسی کی تعریف ہے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اللہ بہت بڑا ہے ۳؎(ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث اسناد سے حسن و غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎خصوصی ملاقات چھٹے آسمان پر وہاں ہی گفتگو ہوئی،عمومی ملاقات تو سارے انبیاء سے بیت المقدس میں ہوچکی تھی مگر وہاں یہ گفتگو نہ ہوئی وہاں کی گفتگو کچھ اور تھی جوان شاء اللهحدیث معراج کی شرح میں عرض کی جائے گی۔
۲
؎اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ اللہ کے مقبول بندے بعد وفات ایک دوسرے سے بھی ملتے ہیں،اور زندہ مقبول بندوں سے بھی۔دوسرے یہ کہ وہ حضرات زندوں کا سلام سنتے بھی ہیں اور انہیں سلام کہلواتے بھی ہیں۔تیسرے یہ کہ وفات یافتہ بندوں کو اور جو ابھی پیدا نہ ہوئے ہوں ان کو بھی سلام کہلوانا جائز ہے جب کہ ان کو پہنچ سکے،ابراہیم علیہ السلام نے قیامت تک کے مسلمانوں کو سلام کہلوایا جو حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے ذریعہ ہم لوگوں تک پہنچ گیا،سلطان العارفین با یزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ خرقان پہنچے تو لوگوں کو خبر دی کہ اس سرزمین میں سو برس کے بعد خواجہ ابوالحسن خرقانی پیدا ہوں گے جو انہیں پائے میرا سلام پہنچائے۔مولانا فرماتے ہیں شعر
آن شنیدی داستان بایزید
کہ از حال ابوالحسن از پیش دید
آخر میں مولانا فرماتے ہیں۔شعر
بلکہ قبل از زادن تو سالہا
مرمر تراد اند بجملہ حالہا
صحابہ کرام قریب الوفات صحابہ سے فرماتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو ہمارا سلام عرض کرنا۔چوتھے یہ کہ ہم کو بھی چاہیے کہ ابراہیم علیہ السلام کو بھی سلام کیا کریں کہ سلام کا جواب دینا ضروری ہے۔
۳
؎یعنی جنت کی بعض زمین درختوں سے بھری ہوئی ہے اور وہ درخت پھلوں سے لدے ہوئے ہیں اسی حصہ میں آدم علیہ الصلوۃ والسلام کو رکھا گیا تھا اور بعض زمین سفیدہ ہے جس میں تمہارے وظیفوں و اعمال سے درخت لگیں گے،جب تم یہاں آؤ گے تو دونوں قسم کے باغ پاؤ گے لہذا اس حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ اگر وہاں کی زمین سفیدہ ہے تو اسے جنت کیوں کہتے ہیں،جنت کے معنی تو ہیں باغ اور نہ یہ اعتراض ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے معراج میں وہاں باغ اور پھل سب کچھ ملاحظہ فرمائے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2315