Main Icon

باب :سبحان اللہ،الحمد للّٰه،لاالہ الا اللہ، اللہ اکبر کہنے کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2321

اللہ تعالٰی کے ناموں کابیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "أَلَا أَدُلُّكَ عَلٰى كَلِمَةٍ مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ مِنْ كَنْزِ الْجَنَّةِ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ، يَقُوْلُ اللّٰهُ تَعَالٰى: أَسْلَمَ عَبْدِيْ وَاسْتَسْلَمَ"رَوَاهُمَا الْبَيْهَقِيُّ فِي "الدَّعْوَاتِ الْكَبِيْرِ".

وعنه قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "ألا أدلك على كلمة من تحت العرش من كنز الجنة: لا حول ولا قوة إلا بالله، يقول الله تعالى: أسلم عبدي واستسلم"رواهما البيهقي في "الدعوات الكبير".

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے کیا میں تمہیں وہ کلمہ نہ بتادوں جو عرش کے نیچے سے آیا ۱؎جنت کے خزانوں سے ہے ۲؎وہلاحول ولا قوۃ الا باﷲہے، رب تعالٰی فرماتا ہے میرا بندہ فرمانبردار ہوگیا اور اس نے اپنے کو میرے سپردکردیا ۳؎یہ دونوں حدیثیں بیہقی نے دعوات کبیر میں نقل کیں۔

شرح حدیث

۱∞؎یہ ترجمہ بہت بہتر ہے کیونکہمِنْ تَحْتَ الْعَرْشِمیں لفظمِنْابتدائیہ ہے،روزی کے خزانے آسمان میں ہیں،رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَ فِی السَّمَآءِ رِزْقُکُمْ"مگر خاص رحمت کا خزانہ عرش اعظم کے نیچے ہے،اسی خزانہ سے سورۂ بقر کی آخری آیات آئیں اور اسی خزانہ سےلاحولشریف آئی۔معلوم ہوا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کو رب تعالٰی کے تمام خزانوں کی خبر ہے تب ہی تو فرماتے ہیں کہ یہ فلاں خزانہ کا موتی ہے۔
۲
؎یعنیلاحولشریف بنی عرش کے نیچے رہی،جنت کے خزانہ میں اس کا خزانہ تکوینی و تخلیقی زیر عرش ہے خزانہ امانت جنت ہے جیسے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ نیل وفرات جنت کی نہریں ہیں۔
۳
؎یعنی جو بندہلاحولشریف کی کثرت کرے تو رب تعالٰی اس کے متعلق فرشتوں سے فرماتا ہے کہ اس بندے نے اپنے کو بالکل میرے سپرد کردیا اب میں اس کی ہر بات کا والی وارث ہوگیا،بلا تشبیہ جیسے بچہ اپنے کو ماں کے حوالے کردیتا ہے تو اس کی ساری فکریں ماں اٹھالیتی ہے اور بچہ ہر فکر سے آزاد ہوجاتا ہے،یہ رب تعالٰی کی بڑی نعمت ہے کسی کسی کو میسر ہوتی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2321