Main Icon

باب :سبحان اللہ،الحمد للّٰه،لاالہ الا اللہ، اللہ اکبر کہنے کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2311

اللہ تعالٰی کے ناموں کابیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِيْ وَقَّاصٍ أَنَّهٗ دَخَلَ مَعَ النَّبِيِّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- عَلَى امْرَأَةٍ وبَيْنَ يَدَيْهَا نَوًى أَوْ حَصًى تُسَبِّحُ بِهٖ فَقَالَ: "أَلَا أُخْبِرُكِ بِمَا هُوَ أَيْسَرُ عَلَيْكِ مِنْ هٰذَا أَوْ أَفْضَلُ؟ سُبْحَانَ اللّٰهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ فِي السَّمَاءِ، وَسُبْحَانَ اللّٰهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ فِي الأَرْضِ، وَسُبْحَانَ اللّٰهِ عَدَدَ مَا بَيْنَ ذٰلِكَ، وَسُبْحَانَ اللّٰهِ عَدَدَ مَا هُوَ خَالِقٌ، وَاللّٰهُ أَكْبَرُ مِثْلَ ذٰلِكَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ مِثْلَ ذٰلِكَ، وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مِثْلَ ذٰلِكَ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ مِثْلَ ذٰلِكَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْدَاوُدَ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيْثٌ غَرِيْبٌ.

وعن سعد بن أبي وقاص أنه دخل مع النبي -صلى الله عليه وسلم- على امرأة وبين يديها نوى أو حصى تسبح به فقال: "ألا أخبرك بما هو أيسر عليك من هذا أو أفضل؟ سبحان الله عدد ما خلق في السماء، وسبحان الله عدد ما خلق في الأرض، وسبحان الله عدد ما بين ذلك، وسبحان الله عدد ما هو خالق، والله أكبر مثل ذلك، والحمد لله مثل ذلك، ولا إله إلا الله مثل ذلك، ولا حول ولا قوة إلا بالله مثل ذلك". رواه الترمذي وأبوداود، وقال الترمذي: هذا حديث غريب.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سعد ابن ابی وقاص سے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ ایک بی بی کے پاس گئے ۱؎جن کے سامنے گٹھلیاں یا کنکریاں تھیں جن پر وہ تسبیح پڑھ رہی تھیں ۲؎تب حضور نے فرمایا کیا میں تمہیں وہ چیز نہ بتاؤں جو تم پر اس سے آسان بھی ہو اور بہتربھی ۳؎اللہ کی پاکی بولتا ہوں اس کی برابر جسے آسمان میں پیدا فرمایا اور اللہ کی پاکی بولتا ہوں اس کی برابر جسے زمین میں پیدا فرمایا اور اللہ کی پاکی بولتا ہوں اس کی برابر جو ان کے درمیان ہے۴؎اور اللہ کی پاکی بولتاہوں اس کی برابر جسے وہ پیدا فرمانے والا ہے اور اللہ بہت بڑا ہے (اسی قدر)تمام تعریفیںکی ہیں(اسی قدر)اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں (اسی قدر)اور اللہ کے بغیر نہ قوت(اسی قدر)۵؎(ترمذی،ابوداؤد) ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے

شرح حدیث

۱∞؎یہ بی بی صاحبہ یا تو حضرت سعد کی محرمات میں سے ہیں اور یا یہ واقعہ پردہ فرض ہونے سے پہلے کا ہے یا جانے سے مراد صرف ان کے پاس پہنچنا ہے نہ کہ انہیں بے پردہ دیکھنا۔شیخ نے لمعات اور اشعہ میں فرمایا کہ یہ بی بی صاحبہ جناب ام المؤمنین جویریہ تھیں رضی اللہ تعالٰی عنہا۔
۲
؎یعنی تسبیحیں ان دانوں پر شمار کررہی تھیں،یہ حدیث مروجہ دھاگہ والی تسبیح کی اصل ہے کہ بکھرے دانوں اور دھاگے میں پروئے ہوئے دانوں میں کوئی فرق نہیں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ تسبیح کبھی استعمال نہ کی،آپ ہمیشہ بطریق عقد انامل انگلیوں پر شمار فرماتے تھے مگر ایک صحابیہ کو یہ کرتے دیکھا منع نہ فرمایا لہذا تسبیح صحابی کی سنت عملی ہے اورحضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت سکوتی۔مرقات نے فرمایا جن لوگوں نے اس تسبیح کو بدعت کہا غلط کہا۔مشائخ فرماتے ہیں کہ تسبیح شیطان پر کوڑہ ہے۔حضرت جنید ولایت کی انتہاء پر پہنچ کر بھی تسبیح پڑھا کرتے تھے کسی نے اس کی وجہ پوچھی جواب دیا کہ اسی کے ذریعہ ہم خدا تک پہنچے ہیں اسے ہم کیسے چھوڑیں۔(مرقات)بعض بزرگ ختم آیت کریمہ کے لیے تھیلوں اور بوریوں میں بادام یا گٹھلیاں جمع کررکھتے ہیں ان کی اصل بھی یہ حدیث ہے۔
۳
؎یہاَوْبمعنی واؤ ہے۔مطلب یہ ہے کہ اس دعا میں تمہارا وقت بھی کم خرچ ہوگا اور تمہیں ان تکلفات کی ضرورت بھی نہ پڑے گی اور ان کلمات کا ثواب تمہاری ان کنکریوں سے زیادہ ہوگا یااَوْبمعنیبَلْہے تب تو مطلب ظاہر ہے۔
۴
؎خلاصہ مطلب یہ ہے کہ رب کی تسبیح میری گنتی شمار سے وراء ہے کیونکہ آسمان و زمین کی یہ چیزیں میرے علم و ادراک سے خارج ہیں،رب کی عطائیں ہمارے شمار سے باہر ہیں تو اس کی تسبیح بھی ہمارے شمار سے باہر ہونا چاہئیں ۔
۵
؎یعنی گزشتہ اور آئندہ مخلوقات کی بقدرالله اکبربھی کہتا ہوں اور اسی قدرالحمد للهبھی اور اسی قدرلا الہ الا اللهبھی اور اسی قدرلاحولالخ بھی اس طرح یہ کلمات میرے پڑھنے میں تو ایک ہیں لیکن رب کے فضل سے ثواب میں ان چیزوں کی تعداد کے برابر۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2311