Main Icon

باب :سبحان اللہ،الحمد للّٰه،لاالہ الا اللہ، اللہ اکبر کہنے کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2319

اللہ تعالٰی کے ناموں کابیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مَكْحُوْلٍ عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "أَكْثِرْ مِنْ قَوْلِ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ، فَإِنَّهَا مِنْ كَنْزِ الْجَنَّةِ"قَالَ مَكْحُوْلٌ: فَمَنْ قَالَ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ وَلَا مَنْجَا مِنَ اللّٰهِ إِلَّا إِلَيْهِ كَشَفَ اللّٰه عَنْهُ سَبْعِينَ بَابًا مِنَ الضُّرِّ، أَدْنَاهَا الفَقْرُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ لَيْسَ إِسْنَادُهٗ بِمُتَّصِلٍ، ومَكْحُوْلٌ لَمْ يَسْمَعْ عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ.

وعن مكحول عن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "أكثر من قول: لا حول ولا قوة إلا بالله، فإنها من كنز الجنة"قال مكحول: فمن قال: لا حول ولا قوة إلا بالله ولا منجا من الله إلا إليه كشف الله عنه سبعين بابا من الضر، أدناها الفقر. رواه الترمذي، وقال: هذا حديث ليس إسناده بمتصل، ومكحول لم يسمع عن أبي هريرة.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت مکحول سے ۱؎وہ حضرت ابوہریرہ سے راوی فرماتے ہیں مجھے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہلاحول ولا قوۃ الا باﷲزیادہ پڑھا کرو کہ یہ جنت کے خزانے سے ہے ۲؎مکحول فرماتے ہیں جو کوئی پڑھاکرےلاحول ولا قوۃ الا باﷲاورلا منجامن اﷲ الا الیہتو اتعالٰی اس سے ستر مصیبتوں کے در بند کردے گا جن میں سے ادنیٰ مصیبت فقیری ہے ۳؎(ترمذی) اور ترمذی نے فرمایا کہ اس حدیث کی اسناد متصل نہیں مکحول نے حضرت ابوہریرہ سے سنا نہیں ۴؎

شرح حدیث

۱∞؎آپ جلیل القدر تابعی ہیں،حبشی النسل ہیں،شام کے مفتی ہیں،امام زہری فرماتے ہیں کہ چار علماء بڑے کامل ہیں:مدینہ منورہ میں ابن مسیب اور کوفہ میں امام شعبی،بصرہ میں خواجہ حسن بصری،شام میں مکحول۔
۲
؎اس کی شرح پہلےگزر چکی یعنی یہ جنت کی نفیس نعمتوں میں سے ہے جو اس دن کام آئیں گی جب مال و اولاد کچھ کام نہ آئیں کہ محفوظ خزانے خاص ضرورت کے وقت ہی کھولے جاتے ہیں۔
۳
؎مرقات نے فرمایا کہ یہاں فقیری سے مراد دل اور مال دونوں کی فقیری ہے یعنی اس کا عامل مال کا بھی غنی ہوگا اور دل کا بھی کیونکہ جو اپنے کو رب کے سپردکردے وہ یقینًا غیر سے مستغنی ہوتاہے اس شخص پر اگر کبھی مال کی غریبی آبھی گئی تو وہ دل کا فقیر نہ بنے گا۔
۴
؎کیونکہ جناب مکحول نے حضرت انس ابن مالک واثلہ ابن اسقع اور ہندوزان صحابہ سے ملاقات کی ہے لیکن اس میں کوئی حرج نہیں کیونکہ مکحول جیسے جلیل القدر تابعی کا ایک راوی کا چھوڑ دینا کوئی مضر نہیں،جب امام بخاری کی تعلیق معتبر ہے جس میں ایک راوی کا ذکر بھی نہیں ہوتا تو حضرت مکحول کا ایک راوی چھوڑ دینا کیوں مضر ہوگا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2319