Main Icon

باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1225

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «أَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَى اللهِ صَلَاةُ دَاوُدَ وَأَحَبُّ الصِّيَامِ إِلَى اللهِ صِيَامُ دَاوُدَ كَانَ يَنَامُ نِصْفَ اللَّيْلِ وَيَقُومُ ثُلُثَهٗ وَيَنَامُ سُدُسَهٗ وَيَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن عبد الله بن عمرو قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «أحب الصلاة إلى الله صلاة داود وأحب الصيام إلى الله صيام داود كان ينام نصف الليل ويقوم ثلثه وينام سدسه ويصوم يوما ويفطر يوما»(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبد الله ابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ الله کو پیاری نماز داؤد علیہ السلام کی ہے اور الله کو پیارے روزے داؤد علیہ السلام کے ہیں ۱؎کہ آپ آدھی رات سوتے تھے اور تہائی رات کھڑے رہتے پھر چھٹا حصہ سوتے ۲؎اور ایک دن روزہ رکھتے ایک دن افطار کرتے ۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہاں نماز سے تہجد کی نماز مراد ہے اور روزے سے نفلی روزے جیسا کہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دیگر انبیائے کرام بھی تہجد اور نفلی روزے ادا کرتے تھے مگر ان کے طریقے اور تھے۔حضرت داؤد علیہ السلام کا یہ طریقہ تھا جو یہاں مذکو رہے۔
۲
؎یعنی دو تہائی رات سوتے اور ایک تہائی رات جاگتے تھے اور اس جاگنے اور نماز کو دو نیندوں کے درمیان کرتے اب بھی یہی چاہیئے۔
۳
؎اسی طرح نوافل تہجد اور نفلی روزوں کی محبوبیت کی چندہ وجوہ ہیں:ایک یہ کہ اس میں روح کا حق بھی ادا ہوتا ہے اور نفس کا حق بھی،تمام رات سونے ہمیشہ افطار کرنے سے روح کا حق رہ گیا۔اور رات بھر جاگنے،ہمیشہ روزے میں نفس کا حق مارا گیا۔دوسرے یہ کہ اس طرح تہجد،روزے نفس پر بھاری ہیں لہذا رب کو پیارے ہیں کیونکہ ہمیشہ روزے رکھنے میں روزہ عادت بن کر آسان معلوم ہونے لگتا ہے مگر اس طرح ہر روزے میں نئی لذّت محسوس ہوتی ہے۔تیسرے یہ کہ اس میں جسمانی طاقت بحال رہتی ہے گھٹتی نہیں طاقت ہی سے ساری عبادتیں ہوتی ہیں۔خیال رہے کہ ہمارے حضور صلی الله علیہ وسلم نے صرف تیرھویں،چودھویں،پندرھویں روزے رکھے کبھی،یہ بھی کیا کچھ تاریخوں میں مسلسل روزے،کچھ میں مسلسل افطار تا کہ امت پر آسانی ہو،نیز حضور صلی الله علیہ وسلم ابوالوقت ہیں جو عمل کریں وہ افضل ہے۔رات کی ہر ساعت کو حضور صلی الله علیہ وسلم کے نفل سے شرف حاصل ہوا اور مہینہ کی ہر تاریخ کو حضور صلی الله علیہ وسلم کے روزے سے عزت ملی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1225