Main Icon

باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1229

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «أَقْرَبُ مَا يَكُونُ الرَّبُّ مِنَ الْعَبْدِ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ الْآخِرِ فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَكُونَ مِمَّنْ يَذْكُرُ اللهَ فِي تِلْكَ السَّاعَةِ فَكُنْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ إِسْنَادًا

وعن عمرو بن عبسة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «أقرب ما يكون الرب من العبد في جوف الليل الآخر فإن استطعت أن تكون ممن يذكر الله في تلك الساعة فكن» . رواه الترمذي وقال: هذا حديث حسن صحيح غريب إسنادا

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمرو ابن عبسہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ رب بندے سے آخری رات کے وسط میں بہت قریب ہوتا ہے ۱؎اگر تم یہ کرسکو کہ اس وقت الله کے ذاکرین میں سے بنو تو بن جاؤ ۲؎(ترمذی )اور فرمایا کہ یہ حدیث اسناد میں حسن صحیح غریب ہے ۳؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی رب کی رحمت اور اس کی رضا رات کے آخری چھٹے حصے میں بندے سے بہت قریب ہوتی ہے۔خیال رہے کہ یہاں قربت اوقات مراد ہے اور سجدے سے قرب احوال مرقاۃ۔لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں کہ رب بندے سے سجدے میں زیادہ قریب ہوتا ہے اگر اس وقت بندہ سجدے میں گرا ہو تو اسے وقت کا قرب بھی حاصل ہوگا اور حال کا بھی۔
۲
؎اس میں خطاب حضرت عمرو ابن عبسہ سے ہے اور ان کے ذریعہ ہم سب لوگوں سے۔شیخ نے اشعۃ اللمعات میں لکھا کہ حضور صلی الله علیہ وسلم کا یہ فرمان عمرو ابن عبسہ کے ایمان لانے کے وقت تھا،آپ بیت الله شریف میں حضور صلی الله علیہ وسلم کی تہجد دیکھ کر فدا ہوگئے تھے اور اسی دم ایمان لے آئے آپ چوتھے مومن ہیں شعر۔
دیوانہ کنی ہر دو جہانش بخشی دیوانہ تو ہر دو جہاں راچہ کند
۳
؎یعنی اس حدیث کی چند اسنادیں ہیں:بعض اسنادوں میں غریب ہے،بعض میں حسن،بعض میں صحیح،مرقاۃ نے یہاں فرمایا کہ غرابت اور صحت میں منافات نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1229