Main Icon

باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1227

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «عَلَيْكُمْ بِقِيَامِ اللَّيْلِ فَإِنَّهٗ دَأْبُ الصَّالِحِينَ قَبْلَكُمْ وَهُوَ قُرْبَةٌ لَكُمْ إِلٰى رَبِّكُمْ وَمُكَفِّرَةٌ لِلسَّيِّئَاتِ وَمُنْهَاةٌ عَنِ الْإِثْمِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

عن أبي أمامة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «عليكم بقيام الليل فإنه دأب الصالحين قبلكم وهو قربة لكم إلى ربكم ومكفرة للسيئات ومنهاة عن الإثم» . رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوامامہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ تم رات میں اٹھنا لازم پکڑ لو ۱؎کیونکہ یہ تم سے پہلے نیکوں کا طریقہ ہے ۲؎اور رب کی طرف قربت کا ذریعہ، گناہوں کو مٹانے والا اور آیندہ گناہوں سے بچانے والا ۳؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎یہ امر وجوب کے لیئے نہیں بلکہ تاکید کے لیئے ہے تہجد واجب یا فرض نہیں بلکہ سنت مؤکدہ ہے وہ بھی علی الکفایہ۔
۲
؎یعنی گزشتہ انبیاء و اولیاء کا طریقہ ہے لہذا یہ فطرت ہے۔معلوم ہوا کہ سارے انبیاء و اولیاء نے تہجد پڑھی اور خاص دعائیں اس وقت مانگیں،دیکھو یعقوب علیہ السلام نے اپنے فرزندوں سے کہا کہ ابھی نہیں بلکہ اور وقت تمہاری مغفرت کی دعا کروں گا یعنی تہجد پڑھ کر۔اس حدیث میں اشارۃً فرمایا گیا کہ جو تہجد نہ پڑھے وہ کامل صالح نہیں۔خیال رہے کہ ہم کیا اور ہماری تہجد کیا ہاں اس میں اچھوں کی نقل ہے الله تعالٰی اس اصل کے طفیل نقل کو بھی قبول کرلیتا ہے۔جو صاحب تہجد پڑھیں انہیں فقیر کی وصیت ہے کہ حضور انور صلی الله علیہ وسلم کی طرف سے پڑھا کریں وہاں سے بہت ملے گا۔
۳
؎اس پر تجربہ بھی گواہ ہے کہ تہجد کی برکت سے گناہوں کی عادت چھوٹ جاتی ہے حضور سچے ان کی ہر بات سچی صلی الله علیہ وسلم۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1227