Main Icon

باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1240

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ أَبَاهُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ مَا شَاءَ اللهُ حَتّٰى إِذَا كَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ أَيْقَظَ أَهْلَهٗ لِلصَّلَاةِ يَقُولُ لَهُمْ : الصَّلَاةُ ثُمَّ يَتْلُو هٰذِهِ الْآيَةَ: (وَأْمُرْ أَهْلَكَ بِالصَّلَاةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا لَا نَسْأَلُكَ رِزْقًا نَحْنُ نَرْزُقُكَ وَالْعَاقبَةُ لِلتَّقْوٰى)رَوَاهُ مَالِكٌ

وعن ابن عمر أن أباه عمر بن الخطاب رضي الله عنه كان يصلي من الليل ما شاء الله حتى إذا كان من آخر الليل أيقظ أهله للصلاة يقول لهم : الصلاة ثم يتلو هذه الآية: (وأمر أهلك بالصلاة واصطبر عليها لا نسألك رزقا نحن نرزقك والعاقبة للتقوى)رواه مالك

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ ان کے والد عمر ابن خطاب رضی الله عنہ رات میں جس قدر رب چاہتا نماز پڑھتے رہتے تھے حتی کہ جب آخری رات ہوتی تو اپنے گھر والوں کو نماز کے لیئے جگاتے ۱؎اور ان سے فرماتے نماز پھر یہ آیت تلاوت فرماتے کہ اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دو اس پر قائم رہو ہم تم سے رزق نہیں مانگتے ہم تمہیں روزی دیں گے۲؎انجام پرہیزگاری کا ہے۔(مالک)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی خود تو تہائی رات سے ہی نماز شروع کردیتے ہیں مگر بال بچے کو چھٹے حصے میں جگاتے۔اس سے معلوم ہوا کہ گھر کے بڑے کو بہت نیک ہونا چاہیے تاکہ چھوٹے بھی نیک بنیں پیر عالم اور بادشاہ و آفیسران اگر نیک ہوں تو ان کے ماتحت شاگردو عوام و مرید بھی نیک ہوجائیں گے۔
۲
؎یعنی نماز خصوصًا تہجد کی برکت سے روزی میں برکت ہوتی ہے۔بعض صالحین کو جب کبھی فقروفاقہ پہنچتا تو گھر والوں سے کہتے نوافل شروع کرو الله رسول نے یہی حکم دیا ہے پھر یہ آیت پڑھتے۔(مرقاۃ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1240