Main Icon

باب: عرفہ میں ٹھہرنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2598

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهٖ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " خَيْرُ الدُّعَاءِ دُعَاءُ يَوْمِ عَرَفَةَ وَخَيْرُ مَا قُلْتُ أَنَا وَالنَّبِيُّونَ مِنْ قَبْلِي: لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهٗ لَا شَرِيكَ لَهٗ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " خير الدعاء دعاء يوم عرفة وخير ما قلت أنا والنبيون من قبلي: لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير ". رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا عرفہ کے دن کی دعاؤں میں سے بہترین ۱؎اور جو ہم نے اور ہم سے پہلے نبیوں نے عرض کیا ان میں سے بہترین عرض یہ ہے کہ اللّٰه اکیلے کے سوا کوئی معبود نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں،اسی کا ملک ہے،اسی کی تعریف اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ۲؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎کیونکہ اس دن کی دعا جلد قبول ہوتی ہے اور اس پر مانگنے سے زیادہ ملتا ہے،ثواب دعا اس کے علاوہ ہے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نویں بقرعید کی دعا بہترین عمل ہے خواہ کہیں مانگی جائے،اگر حج میسر ہو اور میدان عرفات میں مانگی جائے تو زہے نصیب ورنہ اپنے گھر یا مسجد وغیرہ جہاں ہوسکے مانگے،یہ دن غفلت میں نہ گزار دے اسی لیے سمجھ دار لوگ نویں بقر عید کو روزہ رکھتے ہیں،عبادات و دعاؤں میں مشغول رہتے ہیں اس دن کو لہو و لعب میں نہیں گزارتے۔
۲
؎اس جملہ کے دو مطلب ہوسکتے ہیں:ایک یہ کہ اس دن صرف دعا ہی نہ مانگے بلکہ رب تعالٰی کی حمد و ثنا ء بھی کرے کہ اللّٰه کے ذکر سے دل کو چین اور قرار ہے اور ذکروں میں بہترین ذکر یہ ہے کہ اس میں رب تعالٰی کی اعلٰی درجہ کی حمد و ثناء ہے اور سنت انبیاء پرعمل بھی یعنی ذکر اور زبان دونوں کی تاثیریں جمع ہیں اسی لیے لوگ دعائے ماثورہ جو بزرگوں سے منقول ہوں زیادہ پڑھتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ تمام دعاؤں میں بہترین دعا یہ ہے کہ کیونکہ حق تعالٰی کی حمد و ثنا اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم پردرود کہنا یہ دعا ہے، حدیث قدسی میں ہے کہ جسے میرا ذکر دعا مانگنے سے روک دے تو اسے میں مانگنے والوں سے زیادہ دوں گا،نیز اس میں رضاء بالقضاء علے وجہ الکمال ہے،شاعرکہتا ہے۔شعروَكَلْتُ اِلَی الْمَحْبُوْبِ اَمْرِیْ کُلَّہٗ
فِاِنْ شَاءَ اَحْیَانِیْ وَاِنْ شَاءَ اَتْلَفَ
یہ کلمات چوتھے کلمے کے ہیں،حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم بیدار ہوتے ہی یہ پڑھا کرتے تھے جیساکہ گزر چکا۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اعلٰی تاریخوں میں ذکر الٰہی افضل ہے کہ اس صورت میں ذکر کے ساتھ وقت کی فضیلت بھی جمع ہوجاتی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2598