Main Icon

باب: عرفہ میں ٹھہرنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2597

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ خَالِدِ بْنِ هَوْذَةَ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ يَوْمَ عَرَفَةَ عَلٰى بَعِيرٍ قَائِمًا فِي الرِّكَابَيْنِ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن خالد بن هوذة قال: رأيت النبي صلى الله عليه وسلم يخطب الناس يوم عرفة على بعير قائما في الركابين. رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت خالد ابن ہوذہ سے فرماتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کو دیکھا کہ آپ عرفات میں اونٹ پر دو رکابوں کے درمیان کھڑے ہوئے لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے ۱؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یہ خطبہ حج ہے جو نویں بقرعید کو عرفات میں دیا جاتاہےجس میں عرفات سے چلنے،مزدلفہ میں ٹھہرنے،منٰی میں قربانی اور طواف زیارت وغیرہ کے احکام سکھائے جاتے ہیں۔قَائمًابمعنیوَاقِفًاہے،یہ مطلب نہیں کہ آپ اونٹ پر کھڑے ہوئے تھے کہ یہ تو بہت مشکل ہے،مطلب یہ ہے کہ آپ وقوف عرفات اونٹ پر کررہے تھے۔فِی الرِّكَابَیْنِکے معنی یہ ہیں کہ دونوں قدم شریف رکاب میں رکھے ہوئے تھے،چونکہ وہاں منبر تھا نہیں اور منشاء یہ تھا کہ حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم لوگوں سے اونچے رہیں تاکہ دور تک کے لوگ آپ کی زیارت بھی کرسکیں اور آپ کا کلام شریف بھی سن سکیں،اس لیے یہ خطبہ اونٹ پر دیا،اب بھی عرفات شریف میں امام اونٹ پر خطبہ دیتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2597