Main Icon

باب: عرفہ میں ٹھہرنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2596

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «كُلُّ عَرَفَةَ مَوْقِفٌ وَكُلُّ مِنًى مَنْحَرٌ وَكُلُّ الْمُزْدَلِفَةِ مَوْقِفٌ وَكُلُّ فِجَاجِ مَكَّةَ طَرِيْقٌ وَمَنْحَرٌ» . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ

وعن جابر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «كل عرفة موقف وكل منى منحر وكل المزدلفة موقف وكل فجاج مكة طريق ومنحر» . رواه أبو داود والدارمي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا عرفات جائے وقوف ہے اور سارا منٰی قربانی گاہ ہے اور سارا مزدلفہ قیام گا ہے اور مکہ معظمہ کی ہر سڑک راستہ اور قربانی گاہ ہے ۱؎(ابوداؤد،دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎"فجاج" فج کی جمع ہے بمعنی چوڑا راستہ یعنی اگرچہ ہم براستہ کداء مکہ معظمہ پہنچے لیکن مکہ معظمہ تک پہنچنے والے تمام راستے ٹھیک ہیں جس راستہ سے یہاں آؤ درست ہے اور سارا مکہ معظمہ قربانی گاہ ہے کہ حج کی قربانی حرم میں چاہیے جہاں بھی ہوجائے حجاج اپنی آسانی کے لیے منیٰ میں قربانی کرلیتے ہیں۔علماء فرماتے ہیں کہ اگرچہ حج و عمرہ کی قربانی سارے حرم میں ہوسکتی ہے لیکن حج کی قربانی منٰی میں افضل ہے اور عمرہ کی قربانی مکہ معظمہ میں خصوصًا مروہ پہاڑ کے پاس بہتر۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2596