Main Icon

باب: عرفہ میں ٹھہرنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2602

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ قُرَيْشٌ وَمَنْ دَانَ دِينَهَا يَقِفُونَ بِالْمُزْدلِفَةِ، وَكَانُوا يُسَمَّوْنَ الْحُمْسَ فَكَانَ سَائِرَ الْعَرَبِ يَقِفُونَ بِعَرَفَةَ فَلَمَّا جَاءَ الْإِسْلَامُ أَمَرَ اللّٰهُ تَعَالٰى نَبِيَّهٗ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْتِيَ عَرَفَاتٍ فَيَقِفُ بِهَا ثُمَّ يَفِيضُ مِنْهَا فَذٰلِكَ قَوْلُهٗ عَزَّ وَجَلَّ: (ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ) (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

عن عائشة قالت: كان قريش ومن دان دينها يقفون بالمزدلفة، وكانوا يسمون الحمس فكان سائر العرب يقفون بعرفة فلما جاء الإسلام أمر الله تعالى نبيه صلى الله عليه وسلم أن يأتي عرفات فيقف بها ثم يفيض منها فذلك قوله عز وجل: (ثم أفيضوا من حيث أفاض الناس) (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں قریش اور ان کا طریقہ کرنے والے مزدلفہ میں ہی ٹھہر جاتے تھے ۱؎اور انہیں حمس (بہادر وغیرہ)کہا جاتا تھا ۲؎باقی عرب عرفات میں ٹھہرتے تھے پھر جب اسلام آیا تو اللّٰه تعالٰی نے نبی صلی اللّٰہ علیہ و سلم کو حکم دیا کہ عرفات پہنچیں وہاں ہی ٹھہریں پھر وہاں سے واپس ہوں۳؎یہ حکم ہے اللّٰه عزوجل کا کہ تم وہاں سے چلو جہاں سے لوگ چلیں۴؎(مسلم، بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی سرداران عرب خواہ قریش یا غیر قریش حج کے موقعہ پر اپنی بڑائی اس طرح ظاہرکرتے تھے کہ غریب حاجی تو عرفات پہنچتے تھے اور یہ لوگ مزدلفہ تک آکر لوٹ جاتے تھے۔
۲
؎حمسح کے پیش سےاحمسکی جمع،حماسہسے بنا بمعنی سختی و بہادری اسی لیے کعبہ کوحمساءکہتے ہیں کہ وہ مضبوط پتھروں سے بنایا گیا،نیز وہ کہتے تھے کہ ہم حرم کے کبوتر ہیں حدود حرم سے آگے نہ بڑھیں گے۔
۳
؎کیونکہ حج کی جان اور اس کا رکن اعلٰی تو حج کا قیام ہی ہےجس سے یہ لوگ تکبر اور فخر کی بناء پر محروم رہے اے محبوب آپ وہاں ہی قیام کریں،صرف مزدلفہ سے واپس نہ ہوں۔معلوم ہواکہ متکبر انسان کبھی بڑی رحمتوں سے محروم رہتا ہے۔
۴
؎یعنی عرفات سے جہاں سے حجاج واپس ہوتے ہیں تاکہ متکبروں کا غرور ٹوٹے۔خیال رہے کہ قبرستان اور عرفات کا میدان، جماعت نماز کی صفیں وہ مقامات ہیں جہاں سب چھوٹے بڑے برابر کردیئے جاتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2602