Main Icon

باب :گزشتہ بابوں کے تتمات و لواحق کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2369

اللہ تعالٰی کے ناموں کابیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ --صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "قَالَ رَجُلٌ لَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ لِأهْلِهٖ"، وَفِي رِوَايَةٍ: "أَسْرَفَ رَجُلٌ عَلٰى نَفْسِهٖ، فَلَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ أَوْصٰى بَنِيْهِ: إِذَا مَاتَ فَحَرِّقُوْهُ، ثُمَّ اذْرُوْا نِصْفَهٗ فِي الْبَرِّ، وَنِصْفَهٗ فِي الْبَحْرِ، فَوَاللّٰهِ لَئِنْ قَدَرَ اللّٰهُ عَلَيْهِ لَيُعَذِّبَنَّهٗ عَذَابًا لَا يُعَذِّبُهٗ أَحَدًا مِنَ الْعَالَمِينَ، فَلَمَّا مَاتَ فَعَلُوْا مَا أَمَرَهُمْ، فَأَمَرَ اللّٰهُ الْبَحْرَ فَجَمَعَ مَا فِيهِ، وَأَمَرَ الْبَرَّ فَجَمَعَ مَا فِيهِ، ثُمَّ قَالَ لَهٗ: لِمَ فَعَلْتَ هٰذَا ؟ قَالَ: مِنْ خَشْيَتِكَ يَا رَبِّ وَأَنْتَ أَعْلَمُ، فَغَفَرَ لَهٗ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله --صلى الله عليه وسلم-: "قال رجل لم يعمل خيرا قط لأهله"، وفي رواية: "أسرف رجل على نفسه، فلما حضره الموت أوصى بنيه: إذا مات فحرقوه، ثم اذروا نصفه في البر، ونصفه في البحر، فوالله لئن قدر الله عليه ليعذبنه عذابا لا يعذبه أحدا من العالمين، فلما مات فعلوا ما أمرهم، فأمر الله البحر فجمع ما فيه، وأمر البر فجمع ما فيه، ثم قال له: لم فعلت هذا ؟ قال: من خشيتك يا رب وأنت أعلم، فغفر له". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے ایک شخص جس نے کبھی کوئی نیکی نہ کی تھی اس نے اپنے گھر والوں سے کہا اور ایک روایت میں یوں ہے کہ ایک شخص نے اپنی جان پر زیادتی کی تھی جب اسے موت آئی تو اس نے اپنی اولاد کو وصیت کی۱؎کہ جب وہ مرجائے تو اسے جلادو پھر اس کو آدھا جنگل میں اور آدھا دریا میں اڑا دو ۲؎رب کی قسم اگرنے اس پرتنگی کی تو اسے وہ عذاب دے گا جو جہانوں میں کسی کو نہ دے۳؎پھر جب وہ مرگیا جو اس نے کہا تھا وہ ان لوگوں نے کیا،نے دریا کو حکم دیا تو اس نے اپنے اندر کا سب جمع کردیا اور جنگل کو حکم دیا تو اس نے اپنے اندر کا جمع کر دیا پھر اس سے فرمایا کہ تو نے یہ حرکت کیوں کی وہ بولا یا رب تیرے ڈر سے تجھے تو خود خبر ہے اسے رب نے بخش دیا ۴؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎غالب یہ ہے کہ یہ شخص کوئی اسرائیلی تھا کیونکہ بنی اسرائیل نے بار ہا خوف الٰہی میں بڑی بڑی مشقتیں جھیلی ہیں اور یہ واقعہ اس وقت کاہے جب انبیاءکرام کی تعلیم دنیا سے گم ہوچکی تھی لوگ رب تعالٰی کی صفات سے بے خبر ہوگئے تھے لہذا اگلے واقعہ پر کوئی اعتراض نہیں۔
۲
؎اگرچہ اس زمانہ میں دفن کا رواج تھا مگر اس ناسمجھ نے خیال کیا کہ دفن ہونے کی صورت میں میری لاش ایک ہی جگہ ہوگی جسے رب دوبارہ زندگی بخش دے گا اور اگر میری مٹی کے ذرے دریا اور خشکی میں بکھرگئے تو رب اسے جمع نہ کرے گا یا جمع نہ کر سکے گا۔اس کا یہ خیال قدرت الٰہی سے بے خبری کی بنا پر تھا اور یہ بے خبری نور نبوت نہ پہنچنے کی وجہ سے تھی لہذا یہ بندہ معذور تھا اور اسے اس بنا پر کافر نہیں کہہ سکتے کیونکہ ایسے زمانہ میں نجات کے لیے صرف عقیدۂ توحید کافی ہوتاہے۔
۳
؎یہ معنی بہت نفیس ہیں کہقَدَرَ قَدْرٌسے بنا نہ کہقُدْرَۃٌسے،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَ اَمَّاۤ اِذَا مَا ابْتَلٰىهُ فَقَدَرَ عَلَیْهِ رِزْقَهٗ"اور یونس علیہ السلام کے بارے میں فرماتاہے:"فَظَنَّ اَنۡ لَّنۡ نَّقْدِرَ عَلَیۡہِ"اگر یہقُدْرَۃٌسے بنتا تو اس میں خدا کی قدرت کا انکار ہوتا جو کفر ہے،یہی معنے مرقات نے کئے یعنے اگر رب نے مجھ پر تنگی کی اور میرا حساب لیا تو مجھے عذاب دے گا۔خلاصہ یہ ہے کہ تم میری میت کو خود عذاب دے دینا (جلا کر اڑا کر)تاکہ رب تعالٰی مجھ پر عذاب نہ کرے،اوراگرقُدْرَۃٌسے ہو جیساکہ بعض شارحین نے فرمایا تو یہی کہا جائے گا کہ یہ بندہ صفات الٰہی سے خبردار نہ تھا۔
۴
؎اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ مردہ کو جلا ڈالنے اور اس کی مٹی کو اڑا دینے سے مردہ حساب و عذاب سے نہیں بچ سکتا،رب تعالٰی ایک آن میں اس کے تمام ذرے جمع فرماکر حساب بھی لے لیتا ہے اور عذاب و ثواب بھی دے دیتا ہے جیساکہ عذاب قبر کے باب میں عرض کرچکے ہیں۔دوسرے یہ کہ زمانہ فترت کے لوگ صرف عقیدۂ توحید پر بخشے جائیں گے،صفات الٰہی سے غفلت اور گناہوں پر ان کی پکڑ نہ ہوگی سوائے حقوق العباد اور ظلم کے کہ ظلم کی سزا تو جانوروں کو بھی ملے گی۔تیسرے یہ کہ خوف خدا رب تعالٰی کی بڑی ہی نعمت ہے جس سے سارے گناہ معاف ہوجاتے ہیں،دیکھو یہ بندہ عمر بھر کا گنہگار تھا محض غلبۂ خوف الٰہی سے بخشا گیا۔چوتھے یہ کہ عذاب و ثواب کا حکم تو مرتے ہی ہوجاتا ہے اس کا ظہور قیامت میں ہوگا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2369