Main Icon

باب :گزشتہ بابوں کے تتمات و لواحق کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2367

اللہ تعالٰی کے ناموں کابیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "لَوْ يَعْلَمُ الْمُؤْمِنُ مَا عِنْدَ اللّٰهِ مِنَ الْعُقُوْبَةِ مَا طَمِعَ بِجَنَّتِهِ أَحَدٌ، وَلَوْ يَعْلَمُ الْكَافِرُ مَا عِنْدَ اللّٰهِ مِنَ الرَّحْمَةِ مَا قَنَطَ مِنْ جَنَّتِهِ أَحَدٌ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "لو يعلم المؤمن ما عند الله من العقوبة ما طمع بجنته أحد، ولو يعلم الكافر ما عند الله من الرحمة ما قنط من جنته أحد". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اگر مؤمن جان لیتا کہ اللہ تعالٰی کے پاس کتنا عذاب ہے تو کوئی بھی اس کی جنت کی امید نہ رکھتا اور اگر کافر جان لیتا کہ اللہ کے پاس کتنی رحمت ہے تو اس کی جنت سے کوئی ناامید نہ ہوتا ۱؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎اس میں رب تعالٰی کی انتہائی رحمت و عذاب کا ذکر ہے یعنی اس قدر بیان کرنے کے باوجود اللہ تعالٰی کی وسعت رحمت و عذاب کسی کے خیال میں نہیں آسکتی،اگر ان کی حقیقت معلوم ہوجائے تو عذاب دیکھ کر مومن کی آس ٹوٹ جائے اور اس کی رحمت میں غور کرکے کافر کے یاس جاتی رہے۔خلاصہ یہ ہے کہ نیک کار کو بھولنا نہ چاہئیے کیونکہ اللہ جباروقہار ہے اور گنہگار کو مایوس نہ ہونا چاہئیے کیونکہ اللہ ستار و غفار ہے۔حضرت عمر فرماتے ہیں اگر قیامت میں رب اعلان فرمائے کہ صر ف ایک ہی بندہ جنتی ہے تو مجھے امید ہوکہ شائد میں ہی ہوں گا اور اگر اعلان ہوجائے کہ صرف ایک ہی بندہ دوزخی ہے تو مجھے خطرہ ہوگا کہ وہ میں ہی ہوں۔ صوفیاء فرماتے ہیں کہ بندہ پر زندگی میں خوف غالب چاہئیے اور مرتے وقت امید۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2367