Main Icon

باب :گزشتہ بابوں کے تتمات و لواحق کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2375

اللہ تعالٰی کے ناموں کابیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ: قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ --صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِنَّ مَثَلَ الَّذِي يَعْمَلُ السَّيِّئَاتِ ثُمَّ يَعْمَلُ الْحَسَنَاتِ كَمَثَلِ رَجُلٍ كَانَتْ عَلَيْهِ دِرْعٌ ضَيِّقَةٌ قَدْ خَنَقَتْهُ، ثُمَّ عَمِلَ حَسَنَةً فَانْفَكَّتْ حَلْقَةٌ، ثُمَّ عَمِلَ أُخْرٰى فَانْفَكَّتْ أُخرٰى حَتّٰى تَخْرُجَ إِلَى الأَرْضِ". رَوَاهُ فِي "شَرْحِ السُّنَّةِ".

عن عقبة بن عامر: قال: قال رسول الله --صلى الله عليه وسلم-: "إن مثل الذي يعمل السيئات ثم يعمل الحسنات كمثل رجل كانت عليه درع ضيقة قد خنقته، ثم عمل حسنة فانفكت حلقة، ثم عمل أخرى فانفكت أخرى حتى تخرج إلى الأرض". رواه في "شرح السنة".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضر ت عقبہ ابن عامر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس شخص کی مثال جو پہلے گناہ کرتا ہو پھر نیکیاں کرنے لگے۱؎اس کی سی ہے جس پر تنگ زرہ تھی جو اس کا گلا گھونٹ رہی تھی۲؎پھر اس نے ایک نیکی کی تو ایک چھلا کھل گیا پھر دوسری نیکی کی تو دوسرا کھل گیا حتی کہ وہ ذرہ زمین پر گر گئی ۳؎(شرح سنہ)

شرح حدیث

۱∞؎گناہ چھوڑ کر یا گناہ کے ساتھ ساتھ بعض لوگ پہلے صرف گناہ کرتے ہیں بعد میں گناہ چھوڑ کر صرف نیکیاں کرنے لگتے ہیں یہ تو اعلیٰ درجہ کے ہیں اور بعض لوگ پھر بعد میں اگرچہ گناہ کرتے رہیں مگر نیکیاں بھی کرنے لگتے ہیں یہ بھی غنیمت ہے۔غالب یہ ہے کہ یہاں پہلی جماعت مراد ہے۔
۲
؎یہ بہت نفیس مثال ہے کہ جیسے زرہ سارے جسم کو گھیر لیتی ہے،اور اگر تنگ ہو تو تمام بدن کو تکلیف دیتی ہے ایسے ہی گناہوں میں گھرا ہوا ہر طرح برا ہوتا ہے اللہ کے نزدیک بھی اور بندوں کی نگاہ میں بھی اس کو قلبی کوفت بھی رہتی ہے،نیکی سے دل کو خوشی ہوتی ہے،گناہ سے دل کو رنج اگرچہ کبھی یہ خوشی و غم بعض اوقات محسوس نہ ہوں۔
۳
؎اس میں اشارۃً فرمایا گیا کہ نیکیوں کی برکت سے گناہ معاف ہوتے ہیں رب فرماتاہے:"اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْهِبْنَ السَّیِّاٰتِؕ"یہ بھی پتہ لگا اولًا انسان بتکلف نیکی کرتا ہے پھر آہستہ آہستہ اس کا عادی بن جاتا ہے،اور قدرتی طور پر گناہوں سے نفرت ہوجاتی ہے قرآن کریم فرماتاہے:"اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِؕ"۔رب تعالٰی ایسی نیکیاں نصیب فرمائے۔مطلب یہ کہ نیکیوں کے ذریعہ آخر کار گناہوں کی زرہ بالکل کھل کر زمین پر گر جاتی ہے ہم سے دور ہوجاتی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2375