Main Icon

باب :گزشتہ بابوں کے تتمات و لواحق کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2376

اللہ تعالٰی کے ناموں کابیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ أَنَّهٗ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُصُّ عَلَى الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَقُوْلُ: وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتَانِ قُلْتُ: وَإِنْ زَنٰى وَإِنْ سَرَقَ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! فَقَالَ الثَّانِيَةَ: وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتَانِ ، فَقُلْتُ الثَّانِيَةَ: وَإِنْ زَنٰى وَإِنْ سَرَقَ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ!فَقَالَ الثَّالِثَةَ: وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتَانِ فَقُلْتُ الثَّالِثَةَ: وَإِنْ زَنٰى وَإِنْ سَرَقَ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! قَالَ: "وَإِنْ رَغِمَ أَنْفُ أَبِي الدَّرْدَاءِ". رَوَاهُ أَحْمَدُ.

وعن أبي الدرداء أنه سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقص على المنبر وهو يقول: ولمن خاف مقام ربه جنتان قلت: وإن زنى وإن سرق يا رسول الله! فقال الثانية: ولمن خاف مقام ربه جنتان ، فقلت الثانية: وإن زنى وإن سرق يا رسول الله!فقال الثالثة: ولمن خاف مقام ربه جنتان فقلت الثالثة: وإن زنى وإن سرق يا رسول الله! قال: "وإن رغم أنف أبي الدرداء". رواه أحمد.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابی الدرداء سے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو برسر منبر وعظ فرماتے سنا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے تھے کہ اسے جو اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرے دو جنتیں ہیں
۱
؎میں نے کہا اگرچہ زنا کرلے اگرچہ چوری کرلے۲؎یا ر سول اللہ حضور نے پھر دوبارہ یہی فرمایا کہ اس کے لیے جو اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈر ے دو جنتیں ہیں میں نے دوبارہ کہا یارسول اللہ اگرچہ زنا کرے اور چوری کرے حضور نے پھر تبارہ فرمایا کہ اسے جو اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرے دوجنتیں ہیں تیسری بار عرض کیا گیا کہ اگرچہ زنا و چوری کرے یا رسول اللہ تو فرمایا اگرچہ ابو الدرداء کی ناک رگڑ جائے ۳؎(احمد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی جو کوئی اس خوف سے گناہ چھوڑ دے یا توبہ کرتا رہے کہ کل مجھے رب کے سامنے حاضر ہونا ہے اور اعمال کا حساب دینا ہے اسے دو جنتیں عطا ہوں گی،ایک جنت خوف خدا کے عوض اور دوسری گناہ چھوڑ دینے کے عوض یا ایک جنت عدل کی،دوسری جنت رب کے فضل کی یا ایک جنت جسمانی،دوسری جنت جنانی و روحانی یا ایک جنت دنیا میں کہ اسے ہمیشہ قربِ الٰہی میسر ہوگا جس سے وہ خوش و خرم رہے گا۔دوسری جنت آخرت میں،ان دو جنتوں کی بہت تفسیریں ہیں مگر صرف زبانی طور پر خوفِ الٰہی کا محض دعوٰی نہ ہو بلکہ عمل بھی ہو،رب تعالٰی ہم کو اپنا وہ خوف نصیب کرے جو گناہ چھوڑا دے آمین۔یہ وہ گوہر ہے جو بادشاہوں کے خزانوں میں نہیں ملتا۔
۲
؎یعنی اس سے پہلے اگرچہ چوری و زنا کرچکا ہو اگرچہ اس خوف کے بعد زنا و چوری کر بیٹھے تب بھی دو جنتوں کا مستحق ہے۔
۳
؎یعنی اے ابوالدرداء اگر تم سوال کرتے کرتے اپنی ناک بھی رگڑ دو تب بھی حکم یہی رہے گا کہ اللہ سے ڈرنے والا دو جنتوں کا مستحق ہے خواہ اس سے قبل کتنے ہی بڑے گناہ کیوں نہ کرچکا ہو اور اگرچہ اس کے بعد بھی غلطی سے گناہ کر بیٹھے۔خوف الٰہی وہ صابن ہے جو دل کے سارے میل دھو ڈالتا ہے یا وہ سورج ہے جس کی کرنیں گندی سے گندی زمین کو خشک کردیتی ہیں حتی کہ اگر مؤمن کو مرتے وقت بھی خوفِ خدا نصیب ہوجائے اور اسی حال میں مرجائے توان شاء اللهوہ بھی اس آیت کے ماتحت داخل ہے۔مرقات نے یہاں فرمایا کہ خائف سے مراد مؤمن ہے،مطلب یہ ہے کہ مؤمن کتنا ہی بڑا گنہگار کیوں نہ ہو مگر آخر کار دو جنتوں کا مستحق ہوگا،ایک اپنے ایمان کی جنت دوسرے رب کی عطا یا کافر کی میراث کی،معافی پا کر وہاں پہنچے یا سزا پاکر۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2376