Main Icon

باب :سفر کے آداب و طریقے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3904

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِذَا دَخَلْتَ لَيْلًا فَلَا تَدَخُلْ علي أَهْلَكَ حتّٰى تَسْتَحِدَّ الْمُغِيْبَةُ وَتَمْتَشِطَ الشَّعِثَةُ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعنه أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "إذا دخلت ليلا فلا تدخل علي أهلك حتى تستحد المغيبة وتمتشط الشعثة". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اگر تم رات میں آؤ تو اپنی بیوی کے نہ جاؤ ۱؎حتی کہ وہ زیر ناف لوہا استعمال کرلیں ۲؎اور پریشان بالوں میں کنگھی پھیرلیں ۳؎(مسلم، بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی جب تم سفر سے اپنے شہر میں آؤ رات میں نہ جاؤ،بعض نسخوں میں یوں ہےاذا دخلت بیتكوہ اس شرح کی تائید کرتا ہے۔(مرقات)
۲
؎استحدادکے معنی ہیں حدید یعنی لوہا استعمال کرنا یعنی استرہ سے صفائی کرنا۔مغیبۃسے مراد یا وہ عورت ہے جس کا خاوند بہت عرصہ تک غائب رہا ہو یامغیبہسے مراد زیر ناف کے بال ہیں۔خیال رہے کہ عورتوں کو استرہ سے صفائی کرنا ممنوع ہے لہذا یہاںاستحدادسے مراد چونا بال صفا صابن وغیرہ سے صفائی کرنا مراد ہے یعنی بطریق تحدید صرف صفائی مراد ہے لوہے سے صفائی مراد نہیں۔(مرقات و اشعہ)
۳
؎یعنی سر کے پریشان بالوں کو کنگھی سے سلجھا کر یکساں کرلیں کیونکہ عورتیں اپنے خاوندوں کی لمبی غیر موجودگی میں ان چیزوں کی پرواہ کم کرتی ہیں۔مقصد یہ ہے کہ تم دیر کے بعد وطن پہنچنے پر اپنی بیویوں کو خراب حالت میں نہ دیکھو بلکہ اچھی حالت میں دیکھو اب چونکہ خط تار ٹیلی فون وغیرہ سے اطلاع دی جاسکتی ہے لہذا اب یہ حکم نہیں جب عورت کو کسی ذریعہ سے اپنے خاوند کی آمد کی اطلاع مل جائے تویہ پابندی نہیں۔(ازمرقات)اس سے معلوم ہوا کہ بیوی کو چاہیے کہ خاوند کی آمد پر اپنے کو آراستہ کرے تاکہ اسے رغبت تام ہو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3904