Main Icon

باب :سفر کے آداب و طریقے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3920

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ عَنْ أَبِيْهِ قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَيَّقَ النَّاسُ الْمَنَازِلَ وَقَطَعُوا الطَّرِيْقَ، فَبَعَثَ نَبِيُّ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنَادِيًا يُنَادِيْ فِي النَّاسِ: "أَنَّ مَنْ ضَيَّقَ مَنْزِلًا أَوْ قَطَعَ طَرِيْقًا فَلَا جِهَادَ لَهٗ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

وعن سهل بن معاذ عن أبيه قال: غزونا مع النبي صلى الله عليه وسلم فضيق الناس المنازل وقطعوا الطريق، فبعث نبي الله صلى الله عليه وسلم مناديا ينادي في الناس: "أن من ضيق منزلا أو قطع طريقا فلا جهاد له". رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سہل ابن معاذ سے ۱؎وہ اپنے والد سے راوی فرماتے ہیں ہم نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ غزوہ کیا تو لوگوں نے منزلیں تنگ کردیں اور رستے بندکردیئے ۲؎تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک اعلانچی بھیجا جو لوگوں میں اعلان کرتا تھا کہ جس نے منزل تنگ کی یا راستہ کاٹا تو اس کا کوئی جہاد نہیں ۳؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کے والد معاذ ابن انس جہنی ہیں،اہل مصر میں آپ کا شمار ہے،تابعی ہیں،سہل ابن معاذ کو یحیی ابن معین نے ضعیف کہا مگر ابن حبان نے آپ کی توثیق کی۔خیال رہے کہ حضرت سہل بھی تابعی ہیں اور آپ کے والد معاذ ابن انس بھی تابعی،مشکوۃ شریف کے بعض نسخوں میں بجائے سہل ابن معاذ کے سعد ابن معاذ ہے وہ غلط ہے کیونکہ حضرت سعد ابن معاذ تو صحابی ہیں اور معاذ ابن انس تابعی۔ (مرقات)
۲
؎اس طرح کہ بعض لوگوں نے راستہ پر اپنا سامان رکھ دیا جس سے راستہ بند ہوگیا اورگزرنے والوں کو تکلیف ہونے لگی اور بعض نے ضرورت سے زیادہ منزل پر جگہ گھیر لی جس سے ساتھیوں پرتنگی ہوگئی۔معلوم ہوا کہ ہر وقت سفروحضر میں ہرمسلمان کو اپنے ساتھیوں کے آرام کا خیال رکھنا چاہیے۔
۳
؎یعنی اس جہاد کا پورا ثواب نہ ملے گا بعض لوگ مسجد میں گزرگاہ پر نماز شروع کردیتے ہیں جس سے آنے جانے والوں کو سخت تکلیف ہوتی ہے بعض حضرات صف میں زیادہ جگہ گھیر کر بیٹھتے ہیں انہیں اس حدیث سے سبق لینا چاہیے مسلمانوں کو تکلیف سے بچانا عبادات کا مغز ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3920