- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 5
- جہاد کا بیان
- حدیث نمبر 3919
باب :سفر کے آداب و طریقے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3919
جہاد کا بیان - جلد 5
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ سَعِيْدِ بْنِ هِنْدٍ عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "تَكُوْنُ إِبِلٌ لِلشَّيَاطِيْنِ وَبُيُوْتٌ لِلشَّيَاطِيْنِ" فَأَمَّا إِبِلُ الشَّيَاطِيْنِ فَقَدْ رَأَيْتُهَا: يَخْرُجُ أَحَدُكُمْ بِنَجِيْبَاتٍ مَعَهٗ قَدْ أَسْمَنَهَا فَلَا يَعْلُوْ بَعِيْرًا مِنْهَا، وَيَمُرُّ بِأَخِيْهِ قَدِ انْقَطَعَ بِهٖ فَلَا يَحْمِلُهٗ، وَأَمَّا بُيُوْتُ الشَّيَاطِيْنِ فَلَمْ أَرَهَا، كَانَ سَعِيْدٌ يَقُوْلُ: لَا أُرَاهَا إِلَّا هٰذِهِ الأَقْفَاصَ الَّتِيْ يَسْتُرُ النَّاسُ بِالدِّيْبَاجِ. رَاوَهُ أَبُوْ دَاوُدَ.
وعن سعيد بن هند عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "تكون إبل للشياطين وبيوت للشياطين" فأما إبل الشياطين فقد رأيتها: يخرج أحدكم بنجيبات معه قد أسمنها فلا يعلو بعيرا منها، ويمر بأخيه قد انقطع به فلا يحمله، وأما بيوت الشياطين فلم أرها، كان سعيد يقول: لا أراها إلا هذه الأقفاص التي يستر الناس بالديباج. راوه أبو داود.
حدیث ترجمہ
روایت ہے سعید ابن ہند سے ۱؎وہ حضرت ابوہریرہ سے راوی فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کچھ تو اونٹ شیطانوں کے ہوں گے اور کچھ گھر شیطانوں کے ہوں گے ۲؎لیکن شیطانوں کے اونٹ وہ تو میں نے دیکھ لیے۳؎کہ تم میں سے کوئی اپنے ساتھ اعلیٰ اونٹنیاں لےکر نکلتا ہے۴؎جنہیں موٹا کیا ہوتا ہے تو ان میں سےکسی اونٹ پر سوار نہیں ہوتا اور اپنے بھائی پر گزرتا ہے جو عاجز رہ گیا ہے تو اسے سوار نہیں کرتا ۵؎لیکن شیطانوں والے گھر تو وہ میں نے نہ دیکھے ہیں ۶؎حضرت سعید کہتے تھے کہ میں نہیں سمجھتا مگر یہ ہیں پنجرے جنہیں لوگ ریشم سے ڈھکتے ہیں ۷؎(ابوداؤد)
شرح حدیث
۱∞؎آپ تابعین میں سے ہیں،حضرت سمرہ ا بن جندب صحابی کے آزادکردہ غلام ہیں،آپ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری ابوہریرہ ابن عباس رضی اللہ عنہم سے احادیث روایت کیں اور آپ سے آپ کے بیٹے حضرت عبدﷲابن سعید اور نافع ابن عمرجحمی وغیرہم نے روایات کیں،ثقہ ہیں،عالم ہیں۔
۲؎جو اونٹ یا گھر ضرورت سے زیادہ رکھے جائیں اور ان سے کوئی دینی کام نہ لیا جائے صرف نام ونمود ہی مقصود ہو وہ شیطانی اونٹ اور گھر ہیں جیسے بعض چوہدری اپنی بڑائی دکھانے کے لیے بلاضرورت جانور گھوڑے مکانات رکھتے ہیں،ہم نے بعض امیروں کے ایسے مکانات دیکھے جو نہایت عالیشان ہیں مگر ویران پڑے ہیں نہ ان میں خود رہتے ہیں نہ کسی کو رہنے کے لیے دیتے ہیں،حتی کہ بلاضرورت مسجدیں بنا دینا جو ویران پڑی رہیں صرف زمین گھیر دی جائے وہ بھی ممنوع ہیں،ہم نے سنا ہے کہ انور ضلع بریلی چھوٹی سی بستی میں لوگوں نے ضد یا فخر کے لیے اٹھارہ سو مسجدیں بنادیں ہیں سوا چند کے باقی سب ویران پڑی ہیں،بعض شارحین نے فرمایا کہ مال حرام سے جو گھوڑے یاگھر خریدے جائیں وہ شیطانی ہیں مگر پہلی تفسیر زیادہ قوی ہے جیسا کہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔اس فرمان عالی میں وہ غیبی خبر ہے کہ آئندہ مسلمان ایسی حرکتیں کیا کریں گے واقعی یہ دونوں چیزیں دیکھی جارہی ہیں۔
۳؎یعنی زمانہ نبوی میں یہ دونوں چیزیں نہ تھیں حضور انور نے غیبی خبر دی تھی حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد میں نے شیطانی اونٹ تو اپنی آنکھوں دیکھ لیے یہ حضرت ابوہریرہ کا قول ہے۔
۴؎نجیباتجمع ہےنجیبۃکی جو نجابت بمعنی شرافت سے بنا ہے،نجیب اونٹ وہ ہے جو بہت قوی ہو رفتار میں ہلکا و سبک ہو۔ معلوم ہوتا ہے کہ عرب کے امیر لوگ سفرمیں اپنے ساتھ بہت سے گھوڑے خچر اونٹ لے کر سفرکرتے تھے جن میں سے بعض پر سواری و باربرداری کرتے تھے اور اکثر خالی چلتے تھے صرف شان ظاہر کرنے کہ لوگ یہ خالی جانور دیکھیں کہ یہ بڑ ا آدمی ہے جیساکہنجیباتجمع فرمانے سے معلوم ہوا،یہ بھی معلوم ہوا کہ بڑے لوگ اپنے ان جانوروں کو خوب موٹا تازہ کرتے تھے تاکہ ان کی موٹائی تروتازگی ان لوگوں کی مالداری کی علامت ہو۔آج بھی بعض امیر لوگ خوب موٹے تازے کتے اپنے ساتھ رکھتے ہیں جب گھر سے نکلتے ہیں تو کتوں کے جھرمٹ میں نکلتے ہیں اسے اپنی امیری کا نشان سمجھتے ہیں یہ اسی زمانہ جاہلیت کی رسم ہے۔نعوذ بالله!۵؎یعنی ان فالتو جانوروں کی اسے خود تو ضرورت ہے نہیں اور ضرورت مند مسافروں کو بھی نہیں دیتا۔وہ مسکین مسافر پیدل سفرکرتے ہیں اور اس کے یہ فالتو جانور خالی چلتے ہیں،آج امیر چوہدری کے کتے دودھ ملائی کھاتے ہیں اور غریب پڑوسی مسلمانوں کو پیٹ بھر روٹی نہیں ملتی یہ بھی اسی زمانہ کی نقل ہے اللہ تعالٰی ہم مسلمانوں کو اپنے حبیب کا نقّال بنالے۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ ہم نے اس سے بدتر لوگ دیکھ لیے کہ مالداروں کے ساتھ سفر میں فالتو جانور خالی چلتے ہیں اور غریب پیادہ مسافروں کو دیکھ کر یہ فرعونی لوگ مذاق اڑاتے ہیں بہت دفعہ ان غریب مسافروں سے بوجھ اٹھواتے ہیں جانور خالی چلاتے ہیں۔
۶؎یہاں تک حضرت ابوہریرہ کا قول ہے یعنی ہم نے زمانہ صحابہ میں شیطانی فالتو گھر نہیں دیکھے مگر آئندہ ہوں گے ضرورکیونکہ مخبرصادق محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے خبردی ہے اور ممکن ہے کہ کلام حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کا ہی ہو یعنی ہم نے شیطانی جانور تو بچشم خود ملاحظہ فرمائے جو کفار کے پاس ہیں مگر شیطانی گھر ہمارے بعد ہوں گے کہ کفار تو درکنار مسلمان چوہدری نمبردار بھی رکھا کریں گے۔
۷؎اقضاضجمع ہےقضضکی بمعنی پنجرہ جس میں پرندہ قید رکھا جاتا ہے اس سے مراد یا تو اونٹوں کے محمل ہودج ہیں جو امیر لوگ سفر میں استعمال کرتے ہیں سواری کے جانوروں پر یا خالی فالتو جانوروں پر اوریا ان کے رہنے کے مکانات ہیں جنہیں وہ لوگ ریشم وغیرہ سے سجاتے تھے۔غالبًا یہ خبر زمانہ تابعین میں ظاہر ہوئی جو حضرت سعید ابن ہند نے دیکھی۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3919