Main Icon

باب :سفر کے آداب و طریقے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3895

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "اَلْجَرَسُ مَزَامِيْرُ الشَّيْطَانِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "الجرس مزامير الشيطان". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جھانجھ شیطان کا باجہ ہے ۱؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎مزامیرجمع ہےمزمارکی یہزمارسے بنا بمعنی آراستگی آواز،اصطلاح میں ہر باجہ مزمار ہے مگر جھانجھ تو مطلقًا حرام ہے،جھانجھ کے علاوہ دیگر باجے تاشہ نقارہ طبل وغیرہ اگر لہوولعب کے لیے ہوں تو حرام ہیں ضرورۃً جائز ہیں جیسے جہاد میں طبل جنگ،اعلان نکاح کے لیے دف یا تاشہ۔سحری و افطاری کے لیے طبل یا نقارہ بجانا کہ یہ جائز ہیں اس کی کچھ بحثکتاب النکاحمیں گزر چکی ہے،یہاں مرقات نے بھی کچھ بحث کی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ جھانجھ کی حرمت بعینہ دوسرے باجوں کی حرمت لغیرہ۔قوالی اور اس کے ڈھول کا مسئلہ ہماری کتاب جاء الحق حصہ اول میں ملاحظہ کرو وہاں ہم نے اس کی نفیس بحث کی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3895