Main Icon

باب :سفر کے آداب و طریقے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3901

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّهٗ أَقْبَلَ هُوَ وَأَبُوْ طَلْحَةَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفِيَّةُ مُرْدِفَهَا عَلٰى رَاحِلَتِهٖ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

وعن أنس أنه أقبل هو وأبو طلحة مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ومع النبي صلى الله عليه وسلم صفية مردفها على راحلته. رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے کہ وہ اور ابوطلحہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ آئے ۱؎حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ صفیہ تھیں جنہیں حضور اپنی سواری پر پیچھے سوار کیے ہوئے تھے ۲؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎کسی سفر سے مدینہ منورہ واپس آئے۔خیال رہے کہ ابوطلحہ جناب انس کے سوتیلے والد ہیں اور اس وقت خیبر سے یہ سب حضرات واپس ہوئے تھے جیساکہ مرقات اور اشعۃ اللمعات میں ہے۔بی بی صفیہ اسی خیبر میں حاصل ہوئی تھیں،پہلے آپ جناب دحیہ کلبی کے حصہ میں تھیں پھرحضور انور نے ان سے خود قبول فرما کراپنی زوجیت سے شرف بخشا رضی اللہ عنہا۔
۲
؎طریقہ سفر یہ تھا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم اور بی بی صفیہ ایک اونٹ پر تھے اور حضرت انس و ابوطلحہ اپنے اونٹ پر اس طرح مدینہ منورہ میں داخل ہوئے۔اس سے معلوم ہوا کہ اپنی بیوی کو اپنے ساتھ گھوڑے خچر یا اونٹ پر سوار کرلینا جائز بلکہ سنت سے ثابت ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3901