Main Icon

باب :سفر کے آداب و طریقے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3896

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ بَشِيْرٍ الأَنْصَارِيِّ: أَنَّهٗ كَانَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيْ بَعْضِ أَسْفَارِهٖ فَأَرْسَلَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَسُوْلًا: "لَا تُبْقَيَنَّ فِيْ رَقَبَةِ بَعِيْرٍ قِلَادَةٌ مِنْ وَتَرٍ -أَوْ قِلَادَةٌ- إِلَّا قُطِعَتْ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن أبي بشير الأنصاري: أنه كان مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في بعض أسفاره فأرسل رسول الله صلى الله عليه وسلم رسولا: "لا تبقين في رقبة بعير قلادة من وتر -أو قلادة- إلا قطعت". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو بشیر انصاری سے ۱؎کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ حضور کے بعض سفر میں تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک قاصد بھیجا کہ کسی اونٹ کی گردن میں تانت کا ہار نہ چھوڑا جائے مطلقًا کوئی ہار نہ چھوڑا جائے مگر وہ کاٹ دیا جائے ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام قیس ابن عبید اللہ ہے،کنیت ابو بشیر انصاری مزنی ہیں،یہ تو صاحب مشکوۃ نے اکمال میں فرمایا مگر صاحب استیعاب کہتے ہیں کہ آپ کے نام کی تحقیق نہ ہوسکی آپ کی وفات واقعہ حرہ کے بعد ہوگئی،آپ نے بہت ہی عمر پائی۔
۲
؎تانت کا ہار تو اس لیے کٹوادیا کہ تانت سے ہر جانور کی گردن کٹتی ہے اور اس سے سخت تکلیف ہوتی ہے، دوسرے ہار کٹوانے کی چند وجہیں ہوسکتی ہیں:ایک یہ کہ ان ہاروں میں گھونگروں یا جھانجر یا اور بجنے والی چیز باندھی جاتی تھیں جو کہ باجہ ہے اور باجے سے فرشتے رحمت نہیں آتے۔دوسرے یہ کہ جاہلیت کے لوگ یہ ہار جانور سے نظر بد بچانے کے لیے بطور گنڈہ باندھتے تھے وہ سمجھتے تھے کہ ہار نظر بد سے بچالیں گے یہ جاہلانہ مشرکانہ عمل تھا۔تیسرے یہ کہ ان ہاروں میں باجہ یا اور آواز دینے والی چیزیں ہوتی تھیں جن کی آواز سے دشمن ان غازیوں کی نقل و حرکت پر مطلع ہوجاتا اس لیے یہ جنگی تدبیر کے خلاف تھا۔چوتھے یہ کہ ہار اونٹ کا گلا گھونٹ دیتے تھے جب وہ درخت سے کچھ پتے توڑنے کے لیے گردن اٹھاتا تھا،بہرحال اس ممانعت میں بہت سی وجہیں ہوسکتی ہیں۔ظاہر یہ ہے کہ قاصد کے ذریعہ پیغام اونٹ والوں کو بھیجا کہ اپنے اپنے اونٹ کی گردن سے ہار کھول دیں ممکن ہے کہ خود قاصد کو ہی حکم دیا ہو کہ وہ خود ہار توڑ دے۔(ازمرقات )خیال رہے کہ اسماء الہیہ یا جائز دعاؤں کے گنڈے کرانا ڈالنا بالکل درست ہے،ناجائز منتروں کے گنڈے حرام ہیں بتوں کے نام کے گنڈے کفر ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3896