Main Icon

باب :سفر کے آداب و طریقے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3894

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا تَصْحَبُ الْمَلَائِكَةُ رُفْقَةً فِيْهَا كَلْبٌ وَلَا جَرَسٌ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "لا تصحب الملائكة رفقة فيها كلب ولا جرس". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ فرشتے ان ساتھیوں کے ساتھ نہیں رہتے جن میں کتا ہو اور نہ جن میں جھانجھ ہوا ۱؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یہاں ساتھیوں سے مراد سفر کے ساتھی ہیں،کتے سے مراد وہ کتا ہے جو شوقیہ رکھا گیا ہو بلاضرورت،شکار یا حفاظت کے کتے کا یہ حکم نہیں۔فرشتوں سے مراد رحمت کے فرشتے ہیں جو خصوصیت سے سفر میں مسلمانوں کے ساتھ رہتے ہیں خصوصًا غازی حاجی مسافروں کے ہمراہ۔جرس وہ گھنگرو باجہ وغیرہ جو اونٹ گھوڑوں کی گردن میں محض آواز کے لیے باندھے جاویں ہمارے ہاں یہ مکروہ تنزیہی ہیں،بعض علماء شام فرماتے ہیں کہ چھوٹے گھنگرو جائز ہیں بڑے اور بہت آواز والے مکروہ،ضرورۃً یہ بھی جائز ہیں۔حضرت عائشہ صدیقہ نے ایک بچی کے پاؤں سے آواز والے جھانجن اتروادیئے،حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت زبیر کے پاؤں سے جھانجر اتروا دیئے اور فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ ہر باجے کے ساتھ شیطان ہے۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3894