Main Icon

باب: منقبتوں کا مجموعہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6254

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: ذُكِرَتِ الْأَعَاجِمُ عِنْدَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَأَنَا بِهِمْ أَوْ بِبَعْضِهِمْ أَوْثَقُ مِنِّي بِكُمْ أَوْ بِبَعْضِكُمْ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعنه قال: ذكرت الأعاجم عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لأنا بهم أو ببعضهم أوثق مني بكم أو ببعضكم رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم کے پاس عجمیوں کا ذکر کیا گیا تو رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا میں ان پر یا ان کے بعض پر زیادہ بھروسہ رکھتا ہوں جتنا مجھ کو تم پر یا تمہارے بعض پر بھروسہ ہے ۱∞؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎بکماورببعضکممیں خطاب مطلقًا اہل عرب سے ہے یعنی بعض عجمی لوگ بعض عربیوں سے افضل ہوں گے ایمان میں تقویٰ میں،علم میں،عمل میں،اجتہاد میں لہذا اس فرمان سے نہ تو لازم آتا ہے کہ غیر صحابی صحابی سے افضل ہوجاویں اور نہ یہ کہ عجمی عربی سے افضل ہوں۔
مسئلہ: جنس عربی جنس عجمی سے افضل ہے مگر بعض عجمی افراد بعض عربی افراد سے افضل ہیں۔چنانچہ عجمی مؤمن عربی کافر سے، عجمی مخلص عربی منافق سے،عجمی عالم عربی غیر عالم سے،عجمی مجتہد عربی غیر مجتہد سے افضل ہے۔
مسئلہ: کوئی غیرصحابی کسی صحابی سے افضل بلکہ برابر نہیں ہو سکتا،تمام جہان کے علماء صلحاء اولیاء غوث و قطب ایک صحابی کے گرد قدم کو نہیں پہنچ سکتے،وہ حضرات صحبت یافتہ مصطفی صلی الله علیہ و سلم ہیں،آسمان ہدایت کے تارے،اسلام کے ستون ہیں، ایمان کے معیار ہیں،تقویٰ کی کسوٹی ہیں رضی الله عنہم اجمعین۔اس کی تحقیق ہماری کتاب امیر معاویہ میں دیکھو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6254