Main Icon

باب: منقبتوں کا مجموعہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6217

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: إِنَّ نَاسًا مِنَ الْأَنْصَارِ قَالُوا حِينَ أَفَاءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُولِهٖ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَمْوَالِ هَوَازِنَ مَا أَفَاءَ فَطَفِقَ يُعْطِي رِجَالًا مِنْ قُرَيْشٍ الْمِائَةَ مِنَ الْإِبِلِ فَقَالُوا: يَغْفِرُ اللّٰهُ لِرَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي قُرَيْشًا وَيَدَعُنَا وَسُيُوفُنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ فَحُدِّثَ لِرَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَقَالَتِهِمْ فَأَرْسَلَ إِلَى الأَنْصَارِ فَجَمَعَهُمْ فِي قُبَّةٍ مَنْ أَدَمٍ وَلَمْ يَدْعُ مَعَهُمْ أَحَدًا غَيْرَهُمْ فَلَمَّا اجْتَمَعُوا جَاءَهُمْ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مَا كَانَ حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكُمْ؟ فَقَالَ فُقَهَاؤُهُمْ: أَمَّا ذَوُو رَأْيِنَا يَا رَسُولَ اللّٰهِ فَلَمْ يَقُولُوا شَيْئًا وَأَمَّا أُنَاسٌ مِنَّا حَدِيثَةٌ أَسْنَانُهُمْ قَالُوا: يَغْفِرُ اللّٰهُ لِرَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي قُرَيْشًا وَيَدَعُ الْأَنْصَارَ وَسُيُوفُنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي أُعْطِي رِجَالًا حَدِيثِي عَهْدٍ بِكُفْرٍ أَتَأَلَّفُهُمْ أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالْأَمْوَالِ وَتَرْجِعُونَ إِلٰى رِحَالِكُمْ بِرَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالُوا بَلٰى يَا رَسُولَ اللّٰهِ قد رَضِينَا. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أنس قال: إن ناسا من الأنصار قالوا حين أفاء الله على رسوله صلى الله عليه وسلم من أموال هوازن ما أفاء فطفق يعطي رجالا من قريش المائة من الإبل فقالوا: يغفر الله لرسول الله صلى الله عليه وسلم يعطي قريشا ويدعنا وسيوفنا تقطر من دمائهم فحدث لرسول الله صلى الله عليه وسلم بمقالتهم فأرسل إلى الأنصار فجمعهم في قبة من أدم ولم يدع معهم أحدا غيرهم فلما اجتمعوا جاءهم رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: ما كان حديث بلغني عنكم؟ فقال فقهاؤهم: أما ذوو رأينا يا رسول الله فلم يقولوا شيئا وأما أناس منا حديثة أسنانهم قالوا: يغفر الله لرسول الله صلى الله عليه وسلم يعطي قريشا ويدع الأنصار وسيوفنا تقطر من دمائهم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إني أعطي رجالا حديثي عهد بكفر أتألفهم أما ترضون أن يذهب الناس بالأموال وترجعون إلى رحالكم برسول الله صلى الله عليه وسلم . قالوا بلى يا رسول الله قد رضينا. (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے کہ کچھ انصاری لوگوں نے کہا جب الله نے اپنے رسول کو ہوازن کے مال غنیمت میں بہت کچھ دیا ۱؎آپ قریشی لوگوں کو سو سو اونٹ دینے لگے ۲؎تو انصار نے کہا کہ الله رسول صلی الله علیہ و سلم کے درجے بلند کرے آپ قریش کو تو دیتے ہیں ہم کو چھوڑتے ہیں ۳؎حالانکہ ہماری تلواریں کفار کے خون سے ٹپک رہی ہیں ۴؎رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو ان کی اس بات کی خبر دی گئی۵؎تو حضور نے انصار کو بلایا انہیں چمڑے کے ایک خیمہ میں جمع کیا ان کے ساتھ کسی کو نہ ٹھہرنے دیا۶؎جب وہ سب جمع ہوگئے تو ان کے پاس رسول الله صلی الله علیہ و سلم تشریف لائے فرمایا کہ مجھ کو تمہارے متعلق کیا خبر پہنچی ہے تو ان کے سمجھ دار بولے کہ یارسول الله صلی الله علیہ و سلم ہم میں سے سمجھ داروں نے تو کچھ نہیں کہا رہے ہم میں سے نو عمر لوگ انہوں نے کہا ہے ۷؎کہ الله رسول الله صلی الله علیہ و سلم کی شان بڑھائے آپ قریش کو دیتے ہیں انصار کو چھوڑتے ہیں حالانکہ ہماری تلواریں ان کے خون سے ٹپک رہی ہیں ۸؎تو رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ میں ان لوگوں کو دیتا ہوں جو ابھی نئے نئے کفر سے لوٹے ہیں میں انکی تالیف قلب کرتا ہوں۹؎کیا تم اس سے راضی نہیں کہ لوگ مال لے کر جائیں اور تم رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو لے کر اپنے گھر واپس ہوؤ ۱۰؎انصار بولے ہاں یارسول الله ہم راضی ہیں ۱۱؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎ہوازن حضرت حلیمہ دائی کے قبیلہ کا نام تھا یہ مکہ معظمہ اور طائف کے درمیان آباد تھا،ان سے جو جنگ ہوئی اس کا نام جنگ حنین ہے کیونکہ اس جگہ کو حنین کہتے ہیں ان سے بہت زیادہ مال غنیمت حاصل ہوا تھا۔چنانچہ اس غزوہ میں چھ ہزار قیدی چوبیس ہزار اونٹ چار ہزار اوقیہ چاندی چالیس ہزار سے زیادہ بکریاں،بعض روایات میں ہے کہ بکریاں بے شمار تھیں۔(اشعۃ اللمعات)
۲
؎چنانچہ حضور نے اس موقع پر ابو سفیان کو ایک سو اونٹ عطا فرمائے یہ عطیہ بہت ہی زیادہ تھا اسی طرح اور نو مسلموں کو عطیے دیئے مہاجرین اور انصار کو ان سے کم عطیے دیئے۔
۳
؎عربی میںیغفر اللهاورغفر اللهیاعفا اللهکسی کلام کی تمہید کے لیے بولا جاتا ہے،رب فرماتاہے:"عَفَا اللهُ عَنۡكَ لِمَ اَذِنۡتَ لَهُمْ"لہذا اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہنعوذ باللهحضور انور یہ گناہ کر رہے رب ان کا یہ گناہ بخشے یہ بات تو کفر ہے۔
۴
؎یعنی ہماری تلواروں سے ابھی تک ان کفار کے خون ٹپک رہے ہیں ہماری تلواریں ابھی ان کے خون سے خشک بھی نہیں ہوئیں۔مقصد یہ ہے کہ جنگ کو تو زیادہ عرصہ نہیں گزرا ابھی ابھی تو ہوئی ہے اس عبارت میں قلب ہے جیسےعرضت الناقۃ علی الحوضاصل میں یوں تھاعرضت الحوض علی الناقۃ۔
۵
؎کسی نے حضور انور سے یہ عرض کیا مگر غیبت یا شکایت کے لیے نہیں بلکہ اصلاح کے لیے کہ ان حضرات کی اصلاح ہوجائے۔خیال رہے کہ انصار کا یہ عرض کرنا حضور انور پر بدگمانی کے لیے نہ تھا بلکہ مقصد یہ تھا کہ شاید ہمارے جہاد اور قربانیاں بارگاهِ الٰہی میں قبول نہیں اگر قبول ہوتیں تو ہم کو انعام پورا ملتا،یہ خوف الٰہی کی انتہا ہے لہذا ان حضرات کا یہ عرض کرنا کمال ایمان تھا کفر نہ تھا اسی لیے حضور صلی الله علیہ و سلم نے ان سے توبہ نہیں کرائی بلکہ انہیں وہ بشارت دی جو آئندہ مذکور ہے۔
۶
؎حضور انور صلی الله علیہ و سلم نے ایک چمڑے کے خیمہ میں انصار کو جمع فرمایا اور حکم دیا کہ یہاں انصار کے سواء اور کوئی نہ رہے ان سے کچھ راز کی باتیں کرنا ہیں۔
۷
؎مطلب یہ ہے کہ یہ کلام کم عقلی کی وجہ سے صادر ہوا جوشیلے جوانوں نے کہہ دیا ہے ہم لوگوں نے یہ کچھ نہیں کہا۔
۸
؎یہ ہے اقرار قصور کہ جو کچھ ہوا تھا صاف صاف عرض کردیا آخرت میں بھی اپنے قصور کا اقرار کرنا معانی کا ذریعہ ہوگا انکار جرم سے غضب آجاوے گا۔شعر
عذر بد تراز گنہ کا ذکر کیا ہم پہ بے پوچھے ہی رحمت کیجئے
۹
؎مقصد یہ ہے کہ میرا کسی کو زیادہ عطیے دینا اس کی زیادہ مقبولیت کی علامت نہیں ہے اور کسی کو کم دینا اس کی عدم مقبولیت کی دلیل نہیں بلکہ کبھی اس کے برعکس بھی ہوتا ہے۔آج ہم نے جن لوگوں کو زیادہ عطیے دیئے اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ ابھی قریب میں فتح مکہ کے دن ایمان لائے ہیں،ابھی انکے دل میں میری اور اسلام کی محبت اچھی طرح رچی نہیں میری اس دادودہش سے ان کے دلوں میں میری محبت زیادہ ہوگی اور میری محبت سے الله تعالٰی قرآن مجید اور اسلام کی محبت بڑھے گی۔خیال رہے کہ حضور کی محبت حضور کی عظمت ساری محبتوں عظمتوں کی اصل ہے۔ہم نے دیکھا کہ جن کے دلوں میں حضور کی عظمت نہیں ان کے دلوں میں نہ قرآن مجید کی عظمت ہےنہ خدا تعالٰی کی نہ اسلام کی۔دیکھ لو نجدی لوگ قرآن مجید کی کعبہ معظمہ کی کیسی بے حرمتی کرتے ہیں اعلٰی حضرت نے فرمایا؎ثابت ہوا کہ جملہ فرائض فروع ہیں اصل الاصول بندگی اس تاجور کی ہے
۱۰
؎سبحان الله!کیسا ایمان افروز عشق سے لبریز فرمان ہے کہ مؤلفۃ القلوب نو مسلم لوگ تو اس پر خوشی خوشی اپنے گھر جائیں کہ انہیں مال بہت مل گیا اور تم اس پر خوش خوش لوٹو کہ تم کو مال تھوڑا ملا مگر میں اور میری محبت کاملہ تم کو نصیب ہوگئی تم میرے ہوچکے اور میں تمہارا ہوچکا جب میں تمہارا ہوگیا تو کونین بلکہ خالق کونین تمہارا ہوگیا۔
لطیفہ: ایک بار میں نے حضرت محدث کچھوچھوی قدس سرہ العزیز کی خدمت میں عرض کیا کہ نماز میں مزہ نہیں آتا دل نہیں لگتا کیا کروں،فرمایا پڑھتے تو ہو میں نے کہا ہاں پڑھتا ہوں،فرمایا تم بڑے خوش نصیب ہو میں نے کہا وہ کیسے، فرمایا جسے نماز میں مزہ آئے وہ تو مزے کے لیے پڑھتا ہے اور جس کو مزہ نہ آئے وہ رب کے لیے پڑھتا ہے ان کے اس جواب کالطف مجھے اب تک آرہا ہے بہت ہی تسکین ہوئی
؎ریاضت نام ہے تیری گلی میں آنے جانے کا تصور میں ترے رہنا عبادت اس کو کہتے ہیں
۱۱
؎یعنی رسول الله صلی الله علیہ و سلم ہم پر راضی ہیں اور راضی رہیں گے کچھ نہ ملے حضور مل جاویں پھر کیا کمی ہے؎جنت نہ دیں تیری رویت ہو خیرسے اس گل کےآگے کیا حاجت برگ وبر کی ہے
کسی نے کیا خوب کہا ہے
رضینا قسمۃ الجبار فینا لنا علم وللجھال مال
فان المال یفنی عن قریب و ان العلم باق لا یزال

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6217