- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 8
- فضائل کا بیان
- حدیث نمبر 6217
باب: منقبتوں کا مجموعہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6217
فضائل کا بیان - جلد 8
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
- حدیث
-
- 6196
- 6197
- 6198
- 6199
- 6200
- 6201
- 6202
- 6203
- 6204
- 6205
- 6206
- 6207
- 6208
- 6209
- 6210
- 6211
- 6212
- 6213
- 6214
- 6215
- 6216
- 6217
- 6218
- 6219
- 6220
- 6221
- 6222
- 6223
- 6224
- 6225
- 6226
- 6227
- 6228
- 6229
- 6230
- 6231
- 6232
- 6233
- 6234
- 6235
- 6236
- 6237
- 6238
- 6239
- 6240
- 6241
- 6242
- 6243
- 6244
- 6245
- 6246
- 6247
- 6248
- 6249
- 6250
- 6251
- 6252
- 6253
- 6254
- 6255
- 6256
- 6257
- 6258
- 6259
- 6260
- 6261
- 6262
- 6263
- 6264
- 6265
- اگلا
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: إِنَّ نَاسًا مِنَ الْأَنْصَارِ قَالُوا حِينَ أَفَاءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُولِهٖ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَمْوَالِ هَوَازِنَ مَا أَفَاءَ فَطَفِقَ يُعْطِي رِجَالًا مِنْ قُرَيْشٍ الْمِائَةَ مِنَ الْإِبِلِ فَقَالُوا: يَغْفِرُ اللّٰهُ لِرَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي قُرَيْشًا وَيَدَعُنَا وَسُيُوفُنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ فَحُدِّثَ لِرَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَقَالَتِهِمْ فَأَرْسَلَ إِلَى الأَنْصَارِ فَجَمَعَهُمْ فِي قُبَّةٍ مَنْ أَدَمٍ وَلَمْ يَدْعُ مَعَهُمْ أَحَدًا غَيْرَهُمْ فَلَمَّا اجْتَمَعُوا جَاءَهُمْ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مَا كَانَ حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكُمْ؟ فَقَالَ فُقَهَاؤُهُمْ: أَمَّا ذَوُو رَأْيِنَا يَا رَسُولَ اللّٰهِ فَلَمْ يَقُولُوا شَيْئًا وَأَمَّا أُنَاسٌ مِنَّا حَدِيثَةٌ أَسْنَانُهُمْ قَالُوا: يَغْفِرُ اللّٰهُ لِرَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي قُرَيْشًا وَيَدَعُ الْأَنْصَارَ وَسُيُوفُنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي أُعْطِي رِجَالًا حَدِيثِي عَهْدٍ بِكُفْرٍ أَتَأَلَّفُهُمْ أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالْأَمْوَالِ وَتَرْجِعُونَ إِلٰى رِحَالِكُمْ بِرَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالُوا بَلٰى يَا رَسُولَ اللّٰهِ قد رَضِينَا. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
وعن أنس قال: إن ناسا من الأنصار قالوا حين أفاء الله على رسوله صلى الله عليه وسلم من أموال هوازن ما أفاء فطفق يعطي رجالا من قريش المائة من الإبل فقالوا: يغفر الله لرسول الله صلى الله عليه وسلم يعطي قريشا ويدعنا وسيوفنا تقطر من دمائهم فحدث لرسول الله صلى الله عليه وسلم بمقالتهم فأرسل إلى الأنصار فجمعهم في قبة من أدم ولم يدع معهم أحدا غيرهم فلما اجتمعوا جاءهم رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: ما كان حديث بلغني عنكم؟ فقال فقهاؤهم: أما ذوو رأينا يا رسول الله فلم يقولوا شيئا وأما أناس منا حديثة أسنانهم قالوا: يغفر الله لرسول الله صلى الله عليه وسلم يعطي قريشا ويدع الأنصار وسيوفنا تقطر من دمائهم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إني أعطي رجالا حديثي عهد بكفر أتألفهم أما ترضون أن يذهب الناس بالأموال وترجعون إلى رحالكم برسول الله صلى الله عليه وسلم . قالوا بلى يا رسول الله قد رضينا. (متفق عليه)
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت انس سے کہ کچھ انصاری لوگوں نے کہا جب الله نے اپنے رسول کو ہوازن کے مال غنیمت میں بہت کچھ دیا ۱؎آپ قریشی لوگوں کو سو سو اونٹ دینے لگے ۲؎تو انصار نے کہا کہ الله رسول صلی الله علیہ و سلم کے درجے بلند کرے آپ قریش کو تو دیتے ہیں ہم کو چھوڑتے ہیں ۳؎حالانکہ ہماری تلواریں کفار کے خون سے ٹپک رہی ہیں ۴؎رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو ان کی اس بات کی خبر دی گئی۵؎تو حضور نے انصار کو بلایا انہیں چمڑے کے ایک خیمہ میں جمع کیا ان کے ساتھ کسی کو نہ ٹھہرنے دیا۶؎جب وہ سب جمع ہوگئے تو ان کے پاس رسول الله صلی الله علیہ و سلم تشریف لائے فرمایا کہ مجھ کو تمہارے متعلق کیا خبر پہنچی ہے تو ان کے سمجھ دار بولے کہ یارسول الله صلی الله علیہ و سلم ہم میں سے سمجھ داروں نے تو کچھ نہیں کہا رہے ہم میں سے نو عمر لوگ انہوں نے کہا ہے ۷؎کہ الله رسول الله صلی الله علیہ و سلم کی شان بڑھائے آپ قریش کو دیتے ہیں انصار کو چھوڑتے ہیں حالانکہ ہماری تلواریں ان کے خون سے ٹپک رہی ہیں ۸؎تو رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ میں ان لوگوں کو دیتا ہوں جو ابھی نئے نئے کفر سے لوٹے ہیں میں انکی تالیف قلب کرتا ہوں۹؎کیا تم اس سے راضی نہیں کہ لوگ مال لے کر جائیں اور تم رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو لے کر اپنے گھر واپس ہوؤ ۱۰؎انصار بولے ہاں یارسول الله ہم راضی ہیں ۱۱؎(مسلم،بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎ہوازن حضرت حلیمہ دائی کے قبیلہ کا نام تھا یہ مکہ معظمہ اور طائف کے درمیان آباد تھا،ان سے جو جنگ ہوئی اس کا نام جنگ حنین ہے کیونکہ اس جگہ کو حنین کہتے ہیں ان سے بہت زیادہ مال غنیمت حاصل ہوا تھا۔چنانچہ اس غزوہ میں چھ ہزار قیدی چوبیس ہزار اونٹ چار ہزار اوقیہ چاندی چالیس ہزار سے زیادہ بکریاں،بعض روایات میں ہے کہ بکریاں بے شمار تھیں۔(اشعۃ اللمعات)
۲؎چنانچہ حضور نے اس موقع پر ابو سفیان کو ایک سو اونٹ عطا فرمائے یہ عطیہ بہت ہی زیادہ تھا اسی طرح اور نو مسلموں کو عطیے دیئے مہاجرین اور انصار کو ان سے کم عطیے دیئے۔
۳؎عربی میںیغفر اللهاورغفر اللهیاعفا اللهکسی کلام کی تمہید کے لیے بولا جاتا ہے،رب فرماتاہے:"عَفَا اللهُ عَنۡكَ لِمَ اَذِنۡتَ لَهُمْ"لہذا اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہنعوذ باللهحضور انور یہ گناہ کر رہے رب ان کا یہ گناہ بخشے یہ بات تو کفر ہے۔
۴؎یعنی ہماری تلواروں سے ابھی تک ان کفار کے خون ٹپک رہے ہیں ہماری تلواریں ابھی ان کے خون سے خشک بھی نہیں ہوئیں۔مقصد یہ ہے کہ جنگ کو تو زیادہ عرصہ نہیں گزرا ابھی ابھی تو ہوئی ہے اس عبارت میں قلب ہے جیسےعرضت الناقۃ علی الحوضاصل میں یوں تھاعرضت الحوض علی الناقۃ۔
۵؎کسی نے حضور انور سے یہ عرض کیا مگر غیبت یا شکایت کے لیے نہیں بلکہ اصلاح کے لیے کہ ان حضرات کی اصلاح ہوجائے۔خیال رہے کہ انصار کا یہ عرض کرنا حضور انور پر بدگمانی کے لیے نہ تھا بلکہ مقصد یہ تھا کہ شاید ہمارے جہاد اور قربانیاں بارگاهِ الٰہی میں قبول نہیں اگر قبول ہوتیں تو ہم کو انعام پورا ملتا،یہ خوف الٰہی کی انتہا ہے لہذا ان حضرات کا یہ عرض کرنا کمال ایمان تھا کفر نہ تھا اسی لیے حضور صلی الله علیہ و سلم نے ان سے توبہ نہیں کرائی بلکہ انہیں وہ بشارت دی جو آئندہ مذکور ہے۔
۶؎حضور انور صلی الله علیہ و سلم نے ایک چمڑے کے خیمہ میں انصار کو جمع فرمایا اور حکم دیا کہ یہاں انصار کے سواء اور کوئی نہ رہے ان سے کچھ راز کی باتیں کرنا ہیں۔
۷؎مطلب یہ ہے کہ یہ کلام کم عقلی کی وجہ سے صادر ہوا جوشیلے جوانوں نے کہہ دیا ہے ہم لوگوں نے یہ کچھ نہیں کہا۔
۸؎یہ ہے اقرار قصور کہ جو کچھ ہوا تھا صاف صاف عرض کردیا آخرت میں بھی اپنے قصور کا اقرار کرنا معانی کا ذریعہ ہوگا انکار جرم سے غضب آجاوے گا۔شعر
عذر بد تراز گنہ کا ذکر کیا ہم پہ بے پوچھے ہی رحمت کیجئے
۹؎مقصد یہ ہے کہ میرا کسی کو زیادہ عطیے دینا اس کی زیادہ مقبولیت کی علامت نہیں ہے اور کسی کو کم دینا اس کی عدم مقبولیت کی دلیل نہیں بلکہ کبھی اس کے برعکس بھی ہوتا ہے۔آج ہم نے جن لوگوں کو زیادہ عطیے دیئے اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ ابھی قریب میں فتح مکہ کے دن ایمان لائے ہیں،ابھی انکے دل میں میری اور اسلام کی محبت اچھی طرح رچی نہیں میری اس دادودہش سے ان کے دلوں میں میری محبت زیادہ ہوگی اور میری محبت سے الله تعالٰی قرآن مجید اور اسلام کی محبت بڑھے گی۔خیال رہے کہ حضور کی محبت حضور کی عظمت ساری محبتوں عظمتوں کی اصل ہے۔ہم نے دیکھا کہ جن کے دلوں میں حضور کی عظمت نہیں ان کے دلوں میں نہ قرآن مجید کی عظمت ہےنہ خدا تعالٰی کی نہ اسلام کی۔دیکھ لو نجدی لوگ قرآن مجید کی کعبہ معظمہ کی کیسی بے حرمتی کرتے ہیں اعلٰی حضرت نے فرمایا؎ثابت ہوا کہ جملہ فرائض فروع ہیں اصل الاصول بندگی اس تاجور کی ہے
۱۰؎سبحان الله!کیسا ایمان افروز عشق سے لبریز فرمان ہے کہ مؤلفۃ القلوب نو مسلم لوگ تو اس پر خوشی خوشی اپنے گھر جائیں کہ انہیں مال بہت مل گیا اور تم اس پر خوش خوش لوٹو کہ تم کو مال تھوڑا ملا مگر میں اور میری محبت کاملہ تم کو نصیب ہوگئی تم میرے ہوچکے اور میں تمہارا ہوچکا جب میں تمہارا ہوگیا تو کونین بلکہ خالق کونین تمہارا ہوگیا۔
لطیفہ: ایک بار میں نے حضرت محدث کچھوچھوی قدس سرہ العزیز کی خدمت میں عرض کیا کہ نماز میں مزہ نہیں آتا دل نہیں لگتا کیا کروں،فرمایا پڑھتے تو ہو میں نے کہا ہاں پڑھتا ہوں،فرمایا تم بڑے خوش نصیب ہو میں نے کہا وہ کیسے، فرمایا جسے نماز میں مزہ آئے وہ تو مزے کے لیے پڑھتا ہے اور جس کو مزہ نہ آئے وہ رب کے لیے پڑھتا ہے ان کے اس جواب کالطف مجھے اب تک آرہا ہے بہت ہی تسکین ہوئی؎ریاضت نام ہے تیری گلی میں آنے جانے کا تصور میں ترے رہنا عبادت اس کو کہتے ہیں
۱۱؎یعنی رسول الله صلی الله علیہ و سلم ہم پر راضی ہیں اور راضی رہیں گے کچھ نہ ملے حضور مل جاویں پھر کیا کمی ہے؎جنت نہ دیں تیری رویت ہو خیرسے اس گل کےآگے کیا حاجت برگ وبر کی ہے
کسی نے کیا خوب کہا ہےرضینا قسمۃ الجبار فینا لنا علم وللجھال مال
فان المال یفنی عن قریب و ان العلم باق لا یزال
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6217