Main Icon

باب: منقبتوں کا مجموعہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6261

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي مَجْهُودٌ فَأَرْسَلَ إِلٰى بَعْضِ نِسَائِهٖ فَقَالَتْ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا عِنْدِي إِلَّا مَاءٌ ثُمَّ أَرْسَلَ إِلٰى أُخْرٰى فَقَالَتْ مِثْلَ ذٰلِكَ وَقُلْنَ كُلُّهُنَّ مِثْلَ ذٰلِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ يُضُيِّفُهُ؟ يَرْحَمُهُ اللّٰهُ فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهٗ أَبُو طَلْحَةَ فَقَالَ أَنَا يَا رَسُولَ اللّٰهِ فَانْطَلَقَ بِهٖ إِلٰى رَحْلِهٖ فَقَالَ لِامْرَأَتِهٖ هَلْ عِنْدَكِ شَيْءٌ قَالَتْ لَا إِلَّا قُوتُ صِبْيَانِي قَالَ فَعَلِّلِيهِمْ بِشَيْءٍ وَنَوِّمِيهِمْ فَإِذَا دَخَلَ ضَيْفُنَا فَأَرِيهِ أَنا نَأْكُل فَإِذا أَهْوى لِيَأْكُلَ فَقُومِي إِلَى السِّرَاجِ كَيْ تُصْلِحِيهِ فَأَطْفِئِيهِ فَفَعَلَتْ فَقَعَدُوا وَأَكَلَ الضَّيْفُ فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَا عَلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَقَدْ عَجِبَ اللّٰهُ أَوْ ضَحِكَ اللّٰهُ مِنْ فُلَانٍ وَفُلَانَةٍ»وَفِي رِوَايَةٍ مِثْلَهٗ وَلَمْ يُسَمِّ أَبَا طَلْحَةَ وَفِي آخِرِهَا فَأَنْزَلَ اللّٰهُ تَعَالٰى وَيُؤْثِرُونَ عَلٰى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أبي هريرة قال جاء رجل إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال إني مجهود فأرسل إلى بعض نسائه فقالت والذي بعثك بالحق ما عندي إلا ماء ثم أرسل إلى أخرى فقالت مثل ذلك وقلن كلهن مثل ذلك فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من يضيفه؟ يرحمه الله فقام رجل من الأنصار يقال له أبو طلحة فقال أنا يا رسول الله فانطلق به إلى رحله فقال لامرأته هل عندك شيء قالت لا إلا قوت صبياني قال فعلليهم بشيء ونوميهم فإذا دخل ضيفنا فأريه أنا نأكل فإذا أهوى ليأكل فقومي إلى السراج كي تصلحيه فأطفئيه ففعلت فقعدوا وأكل الضيف فلما أصبح غدا على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لقد عجب الله أو ضحك الله من فلان وفلانة»وفي رواية مثله ولم يسم أبا طلحة وفي آخرها فأنزل الله تعالى ويؤثرون على أنفسهم ولو كان بهم خصاصة(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص رسول الله صلی الله علیہ و سلم کی خدمت میں آیا عرض کیا کہ میں بھوکا ہوں ۱∞؎تو حضور نے اپنی بعض ازواج کے پاس بھیجا۲؎وہ بولیں اس کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے ہمارے پاس پانی کے سوا کچھ نہیں ۳؎پھر دوسری کے پاس بھیجا انہوں نے بھی اسی طرح کہا اور سب نے اسی طرح کہا۴؎تب رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ اسے کون مہمان بنائے گا الله اس پر رحم کرے۵؎تو انصار میں سے ایک صاحب کھڑے ہوئے جنہیں ابو طلحہ کہا جاتا تھا ۶؎وہ بولے یارسول الله میں چنانچہ وہ انہیں اپنے گھر لے گئے ۷؎اپنی بیوی سے بولے کیا تمہارے پاس کچھ ہے وہ بولیں نہیں سوائے میرے بچوں کے کھانے کے ۸؎فرمایا تم انہیں کسی چیز سے بہلا دینا سلا دینا۹؎پھر جب ہمارا مہمان آئے تو انہیں دکھانا کہ ہم کھا رہے ہیں ۱۰؎جب وہ اپنا ہاتھ کھانے کے لیے بڑھائیں تو تم چراغ کی طرف ٹھیک کرنے کے بہانے کھڑی ہونا اسے بجھا دینا ۱۱∞؎انہوں نے ایسا ہی کیا یہ سب بیٹھ گئے اور مہمان نے کھالیا انہوں نے بھوکے رات کاٹ دی ۱۲؎پھر سویرا ہوا یہ رسول الله کے پاس حاضر ہوئے ۱۳؎تو رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا الله تعالٰی خوش ہوا یا راضی ہوا فلاں اور فلاں سے۱۴؎ایک روایت میں ہے تو یوں ہی مگر ابوطلحہ کا نام نہیں لیا ہے اس کے آخر میں یہ ہے کہ تب الله نے یہ آیت اتاری اور ترجیح دیتے ہیں اپنی جانوں پر اگرچہ انہیں خود بھوک ہو ۱۵؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎مجھودبنا ہےجھدسے بمعنی مشقت اس کے معنی ہیں مشقت رسیدہ،مراد ہے بھوکا کہ بھوک بھی ایک سخت مشقت ہے۔(مرقات)
۲
؎یہ کہلا کر بھیجا کہ اگر کچھ کھانا ہو تو ایک بھوکے کے لیے بھیجو۔معلوم ہوا کہ نیکی کی ابتداء اپنے اور اپنے گھر سے کرنی چاہیے۔
۳
؎یعنی سواء پانی کے کوئی چیز نہ کھانے کی ہے نہ پینے کی ہمارا گھر ان سب سے خالی ہے۔الله اکبر !یہ ہے اس دولت خانہ کا حال جہاں سے الله کی نعمتیں تمام جہان میں تقسیم ہورہی ہیں جن کے لنگر سے زمانہ پل رہا ہے۔شعر
مالک کونین ہیں گو پاس کچھ رکھتے نہیں دو جہاں کی نعمتیں ہیں ان کے خالی ہاتھ میں
۴
؎یہ واقعہ اور ان جیسے واقعات فتح خیبر سے پہلے کے ہیں(مرقات)فتح خیبر کے بعد حضور صلی الله علیہ و سلم ہر زوجہ صاحبہ کو ایک سال کی کھجوریں جو وغیرہ عطا فرمادیتے تھے۔
۵
؎یضیّفیا باب تفعیل سے ہے یا باب افعال سے دونوں کے ایک معنی ہیں یعنی مہمان بنانا اسے کھانا کھلانا۔
۶
؎آپ کا نام زید ابن سہل انصاری ہے،حضرت انس کے سوتیلے والد جن کا مزار مقدس بصرہ میں ہے،آپ کے حالات بیان ہوچکے ہیں۔
۷
؎رحلسامان کو بھی کہتے ہیں اور سامان رکھنے کی جگہ یعنی گھر کو بھی یہاں دوسرے معنی میں ہے یعنی گھر۔(اشعۃ اللمعات)
۸
؎یعنی ہمارے گھر میں اتنا تھوڑا کھانا ہے کہ ہم تو کھائیں گے نہیں صرف بچوں کو کھلائیں گے وہ بھی بقدر ضرورت ہی کھلائیں گے اسی لیے قوت فرمایا طعام نہ فرمایا۔
۹
؎یعنی ناسمجھ چھوٹے بچے بھوکے ہیں وہ بھوکے آسانی سے سو نہ سکیں گے مگر انہیں کسی صورت سے بہانہ سے سلادینا سلانے کا حکم اس لیے دیا کہ بچے مہمان کو کھانا دیکھ کر صبر نہ کرسکیں گے،روئیں گے شور مچائیں گے اس وجہ سے مہمان نہ کھا سکے گا۔
۱۰
؎اس زمانہ میں مہمان بغیر میزبان کے کھانا نہیں کھاتا تھا اس لیے ان کو مہمان کے ساتھ کھانا ضروری تھا اور اس وقت پردہ فرض نہ ہوا تھا،نیز یہ بی بی صاحبہ بہت بوڑھی تھیں لہذا یہ دونوں میاں بیوی مہمان کے ساتھ کھانے میں مشغول ہوئے۔ (مرقات)
۱ ۱∞؎
یعنی ہم تم دونوں مہمانوں کے ساتھ کھانے کے لیے بیٹھیں پھر تم چراغ کی درستی کے بہانہ سے چراغ کو ہاتھ لگانا اور کھانس کر چراغ گل کردینا،دیا سلائی اس زمانہ میں موجود نہ تھی اس لیے چراغ دوبارہ روشن نہ ہوسکے گا ہم تم جھوٹ موٹ کھاتے اور اپنے منہ کی طرف ہاتھ بڑھاتے رہیں اور خالی منہ چلاتے رہیں تاکہ مہمان سمجھے کہ ہم کھا رہے ہیں اور وہ پیٹ بھر کر کھالے۔
۱۲
؎یعنی سارا گھر بھوکا سویا اور مہمان کو سیر کردیا۔
۱۳
؎یا تو نماز فجر پڑھنے مسجد نبوی شریف میں حاضر ہوئے یا بعد نماز حضور انور سے ملاقات کرنے حاضر ہوئے۔مشکوۃ شریف کے بعض نسخوں میںالی رسول اللهہے توغدابمعنیذھبہے،عام نسخوں میںعلی رسول اللهہے کیونکہغدامیںاقبلکے معنی شامل ہیں۔(مرقات)
۱۴
؎ان جیسی عبارتوں میںعجبیاضحكبمعنیرضیہوتا ہے یعنی الله تعالٰی ان کے اس کام سے راضی ہوگیا یا ان سے راضی اور خوش ہوگیا۔رضا سے مراد خصوصی رضا ہے الله تعالٰی ہر مؤمن سے راضی ہے اور قسم کی رضا اور ہر متقی پرہیزگار سے راضی ہے دوسری قسم کی رضا،ان حضرات سے راضی ہے خصوصی رضا وہ ہی یہاں مراد ہے،فرماتاہے:"لَقَدْ رَضِیَ اللهُ عَنِ الْمُؤْمِنِیۡنَ اِذْ یُبَایِعُوۡنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ
۱۵
؎یہ آیت انصار کی تعریف میں آئی ہے کہ یہ لوگ اپنی اور اپنے بال بچوں کی حاجت روک کر بھی دوسروں کی حاجت روائی کردیتے ہیں اس کے نزول کا سبب یہ ہی واقعہ ہے۔خیال رہے کہ شریعت کا مسئلہ ہے کہ پہلے خویش بعد میں درویش مگر عشق و رضا کا فتویٰ یہ ہے کہ پہلے درویش بعد میں خویش،چونکہ یہ شخص حضور انور صلی الله علیہ و سلم کا بھیجا ہوا تھا لہذا حضرت ابو طلحہ نے اس کی حاجت کو اپنی حاجت پر مقدم رکھا۔حضرت عمر کا آدھا مال خیرات کرنا آدھا مال گھر والوں کے لیے رکھنا شریعت تھا مگر حضرت صدیق ا کبر کا اپنا سارا مال خیرات کرنا گھر میں جھاڑو دے دینا حکم طریقت تھا لہذا اس واقعہ پر یہ اعتراض نہیں کہ جناب ابوطلحہ نے اپنے بچوں کو بھوکا رکھ کر اجنبی شخص کو روٹی کیوں کھلادی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6261