- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 8
- فضائل کا بیان
- حدیث نمبر 6261
باب: منقبتوں کا مجموعہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6261
فضائل کا بیان - جلد 8
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
- حدیث
-
- 6196
- 6197
- 6198
- 6199
- 6200
- 6201
- 6202
- 6203
- 6204
- 6205
- 6206
- 6207
- 6208
- 6209
- 6210
- 6211
- 6212
- 6213
- 6214
- 6215
- 6216
- 6217
- 6218
- 6219
- 6220
- 6221
- 6222
- 6223
- 6224
- 6225
- 6226
- 6227
- 6228
- 6229
- 6230
- 6231
- 6232
- 6233
- 6234
- 6235
- 6236
- 6237
- 6238
- 6239
- 6240
- 6241
- 6242
- 6243
- 6244
- 6245
- 6246
- 6247
- 6248
- 6249
- 6250
- 6251
- 6252
- 6253
- 6254
- 6255
- 6256
- 6257
- 6258
- 6259
- 6260
- 6261
- 6262
- 6263
- 6264
- 6265
- اگلا
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي مَجْهُودٌ فَأَرْسَلَ إِلٰى بَعْضِ نِسَائِهٖ فَقَالَتْ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا عِنْدِي إِلَّا مَاءٌ ثُمَّ أَرْسَلَ إِلٰى أُخْرٰى فَقَالَتْ مِثْلَ ذٰلِكَ وَقُلْنَ كُلُّهُنَّ مِثْلَ ذٰلِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ يُضُيِّفُهُ؟ يَرْحَمُهُ اللّٰهُ فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهٗ أَبُو طَلْحَةَ فَقَالَ أَنَا يَا رَسُولَ اللّٰهِ فَانْطَلَقَ بِهٖ إِلٰى رَحْلِهٖ فَقَالَ لِامْرَأَتِهٖ هَلْ عِنْدَكِ شَيْءٌ قَالَتْ لَا إِلَّا قُوتُ صِبْيَانِي قَالَ فَعَلِّلِيهِمْ بِشَيْءٍ وَنَوِّمِيهِمْ فَإِذَا دَخَلَ ضَيْفُنَا فَأَرِيهِ أَنا نَأْكُل فَإِذا أَهْوى لِيَأْكُلَ فَقُومِي إِلَى السِّرَاجِ كَيْ تُصْلِحِيهِ فَأَطْفِئِيهِ فَفَعَلَتْ فَقَعَدُوا وَأَكَلَ الضَّيْفُ فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَا عَلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَقَدْ عَجِبَ اللّٰهُ أَوْ ضَحِكَ اللّٰهُ مِنْ فُلَانٍ وَفُلَانَةٍ»وَفِي رِوَايَةٍ مِثْلَهٗ وَلَمْ يُسَمِّ أَبَا طَلْحَةَ وَفِي آخِرِهَا فَأَنْزَلَ اللّٰهُ تَعَالٰى وَيُؤْثِرُونَ عَلٰى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
وعن أبي هريرة قال جاء رجل إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال إني مجهود فأرسل إلى بعض نسائه فقالت والذي بعثك بالحق ما عندي إلا ماء ثم أرسل إلى أخرى فقالت مثل ذلك وقلن كلهن مثل ذلك فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من يضيفه؟ يرحمه الله فقام رجل من الأنصار يقال له أبو طلحة فقال أنا يا رسول الله فانطلق به إلى رحله فقال لامرأته هل عندك شيء قالت لا إلا قوت صبياني قال فعلليهم بشيء ونوميهم فإذا دخل ضيفنا فأريه أنا نأكل فإذا أهوى ليأكل فقومي إلى السراج كي تصلحيه فأطفئيه ففعلت فقعدوا وأكل الضيف فلما أصبح غدا على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لقد عجب الله أو ضحك الله من فلان وفلانة»وفي رواية مثله ولم يسم أبا طلحة وفي آخرها فأنزل الله تعالى ويؤثرون على أنفسهم ولو كان بهم خصاصة(متفق عليه)
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص رسول الله صلی الله علیہ و سلم کی خدمت میں آیا عرض کیا کہ میں بھوکا ہوں ۱∞؎تو حضور نے اپنی بعض ازواج کے پاس بھیجا۲؎وہ بولیں اس کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے ہمارے پاس پانی کے سوا کچھ نہیں ۳؎پھر دوسری کے پاس بھیجا انہوں نے بھی اسی طرح کہا اور سب نے اسی طرح کہا۴؎تب رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ اسے کون مہمان بنائے گا الله اس پر رحم کرے۵؎تو انصار میں سے ایک صاحب کھڑے ہوئے جنہیں ابو طلحہ کہا جاتا تھا ۶؎وہ بولے یارسول الله میں چنانچہ وہ انہیں اپنے گھر لے گئے ۷؎اپنی بیوی سے بولے کیا تمہارے پاس کچھ ہے وہ بولیں نہیں سوائے میرے بچوں کے کھانے کے ۸؎فرمایا تم انہیں کسی چیز سے بہلا دینا سلا دینا۹؎پھر جب ہمارا مہمان آئے تو انہیں دکھانا کہ ہم کھا رہے ہیں ۱۰؎جب وہ اپنا ہاتھ کھانے کے لیے بڑھائیں تو تم چراغ کی طرف ٹھیک کرنے کے بہانے کھڑی ہونا اسے بجھا دینا ۱۱∞؎انہوں نے ایسا ہی کیا یہ سب بیٹھ گئے اور مہمان نے کھالیا انہوں نے بھوکے رات کاٹ دی ۱۲؎پھر سویرا ہوا یہ رسول الله کے پاس حاضر ہوئے ۱۳؎تو رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا الله تعالٰی خوش ہوا یا راضی ہوا فلاں اور فلاں سے۱۴؎ایک روایت میں ہے تو یوں ہی مگر ابوطلحہ کا نام نہیں لیا ہے اس کے آخر میں یہ ہے کہ تب الله نے یہ آیت اتاری اور ترجیح دیتے ہیں اپنی جانوں پر اگرچہ انہیں خود بھوک ہو ۱۵؎(مسلم،بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎مجھودبنا ہےجھدسے بمعنی مشقت اس کے معنی ہیں مشقت رسیدہ،مراد ہے بھوکا کہ بھوک بھی ایک سخت مشقت ہے۔(مرقات)
۲؎یہ کہلا کر بھیجا کہ اگر کچھ کھانا ہو تو ایک بھوکے کے لیے بھیجو۔معلوم ہوا کہ نیکی کی ابتداء اپنے اور اپنے گھر سے کرنی چاہیے۔
۳؎یعنی سواء پانی کے کوئی چیز نہ کھانے کی ہے نہ پینے کی ہمارا گھر ان سب سے خالی ہے۔الله اکبر !یہ ہے اس دولت خانہ کا حال جہاں سے الله کی نعمتیں تمام جہان میں تقسیم ہورہی ہیں جن کے لنگر سے زمانہ پل رہا ہے۔شعر
مالک کونین ہیں گو پاس کچھ رکھتے نہیں دو جہاں کی نعمتیں ہیں ان کے خالی ہاتھ میں
۴؎یہ واقعہ اور ان جیسے واقعات فتح خیبر سے پہلے کے ہیں(مرقات)فتح خیبر کے بعد حضور صلی الله علیہ و سلم ہر زوجہ صاحبہ کو ایک سال کی کھجوریں جو وغیرہ عطا فرمادیتے تھے۔
۵؎یضیّفیا باب تفعیل سے ہے یا باب افعال سے دونوں کے ایک معنی ہیں یعنی مہمان بنانا اسے کھانا کھلانا۔
۶؎آپ کا نام زید ابن سہل انصاری ہے،حضرت انس کے سوتیلے والد جن کا مزار مقدس بصرہ میں ہے،آپ کے حالات بیان ہوچکے ہیں۔
۷؎رحلسامان کو بھی کہتے ہیں اور سامان رکھنے کی جگہ یعنی گھر کو بھی یہاں دوسرے معنی میں ہے یعنی گھر۔(اشعۃ اللمعات)
۸؎یعنی ہمارے گھر میں اتنا تھوڑا کھانا ہے کہ ہم تو کھائیں گے نہیں صرف بچوں کو کھلائیں گے وہ بھی بقدر ضرورت ہی کھلائیں گے اسی لیے قوت فرمایا طعام نہ فرمایا۔
۹؎یعنی ناسمجھ چھوٹے بچے بھوکے ہیں وہ بھوکے آسانی سے سو نہ سکیں گے مگر انہیں کسی صورت سے بہانہ سے سلادینا سلانے کا حکم اس لیے دیا کہ بچے مہمان کو کھانا دیکھ کر صبر نہ کرسکیں گے،روئیں گے شور مچائیں گے اس وجہ سے مہمان نہ کھا سکے گا۔
۱۰؎اس زمانہ میں مہمان بغیر میزبان کے کھانا نہیں کھاتا تھا اس لیے ان کو مہمان کے ساتھ کھانا ضروری تھا اور اس وقت پردہ فرض نہ ہوا تھا،نیز یہ بی بی صاحبہ بہت بوڑھی تھیں لہذا یہ دونوں میاں بیوی مہمان کے ساتھ کھانے میں مشغول ہوئے۔ (مرقات)
۱ ۱∞؎یعنی ہم تم دونوں مہمانوں کے ساتھ کھانے کے لیے بیٹھیں پھر تم چراغ کی درستی کے بہانہ سے چراغ کو ہاتھ لگانا اور کھانس کر چراغ گل کردینا،دیا سلائی اس زمانہ میں موجود نہ تھی اس لیے چراغ دوبارہ روشن نہ ہوسکے گا ہم تم جھوٹ موٹ کھاتے اور اپنے منہ کی طرف ہاتھ بڑھاتے رہیں اور خالی منہ چلاتے رہیں تاکہ مہمان سمجھے کہ ہم کھا رہے ہیں اور وہ پیٹ بھر کر کھالے۔
۱۲؎یعنی سارا گھر بھوکا سویا اور مہمان کو سیر کردیا۔
۱۳؎یا تو نماز فجر پڑھنے مسجد نبوی شریف میں حاضر ہوئے یا بعد نماز حضور انور سے ملاقات کرنے حاضر ہوئے۔مشکوۃ شریف کے بعض نسخوں میںالی رسول اللهہے توغدابمعنیذھبہے،عام نسخوں میںعلی رسول اللهہے کیونکہغدامیںاقبلکے معنی شامل ہیں۔(مرقات)
۱۴؎ان جیسی عبارتوں میںعجبیاضحكبمعنیرضیہوتا ہے یعنی الله تعالٰی ان کے اس کام سے راضی ہوگیا یا ان سے راضی اور خوش ہوگیا۔رضا سے مراد خصوصی رضا ہے الله تعالٰی ہر مؤمن سے راضی ہے اور قسم کی رضا اور ہر متقی پرہیزگار سے راضی ہے دوسری قسم کی رضا،ان حضرات سے راضی ہے خصوصی رضا وہ ہی یہاں مراد ہے،فرماتاہے:"لَقَدْ رَضِیَ اللهُ عَنِ الْمُؤْمِنِیۡنَ اِذْ یُبَایِعُوۡنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ"۔
۱۵؎یہ آیت انصار کی تعریف میں آئی ہے کہ یہ لوگ اپنی اور اپنے بال بچوں کی حاجت روک کر بھی دوسروں کی حاجت روائی کردیتے ہیں اس کے نزول کا سبب یہ ہی واقعہ ہے۔خیال رہے کہ شریعت کا مسئلہ ہے کہ پہلے خویش بعد میں درویش مگر عشق و رضا کا فتویٰ یہ ہے کہ پہلے درویش بعد میں خویش،چونکہ یہ شخص حضور انور صلی الله علیہ و سلم کا بھیجا ہوا تھا لہذا حضرت ابو طلحہ نے اس کی حاجت کو اپنی حاجت پر مقدم رکھا۔حضرت عمر کا آدھا مال خیرات کرنا آدھا مال گھر والوں کے لیے رکھنا شریعت تھا مگر حضرت صدیق ا کبر کا اپنا سارا مال خیرات کرنا گھر میں جھاڑو دے دینا حکم طریقت تھا لہذا اس واقعہ پر یہ اعتراض نہیں کہ جناب ابوطلحہ نے اپنے بچوں کو بھوکا رکھ کر اجنبی شخص کو روٹی کیوں کھلادی۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6261