Main Icon

باب: منقبتوں کا مجموعہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6259

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَن جَابر قال: كَانَ عُمَرُ يَقُولُ: أَبُو بَكْرٍ سَيِّدُنَا وَأَعْتَقَ سَيِّدَنَا يَعْنِي بِلَالًا. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

وعن جابر قال: كان عمر يقول: أبو بكر سيدنا وأعتق سيدنا يعني بلالا. رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرمایا کہ جناب عمر فرماتے تھے کہ ابوبکر ہمارے سردار ہیں اور عتیق ہمارے سردار یعنی بلال کو آزاد کیا ۱∞؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎پہلا لفظ سید آپ نے حقیقتًا فرمایا دوسرا سید تواضع اور انکسار کے طور پر کیونکہ حضرت بلال سے حضرت عمر افضل ہیں۔ بعض شارحین نے فرمایا کہ سیادت سے افضلیت لازم نہیں آتی جیسے حضرت عبدالله فرماتے ہیں کہ میں نے امیر معاویہ سے بڑھ کر سید نہ دیکھا حالانکہ آپ نے خلفاء راشدین کو دیکھا ہے۔خلاصہ یہ ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق دو طرح ہمارے سید ہیں ایک تو بذات خود دوسرے ہمارے سید کے آقا،جب حضرت بلال کی وفات کی خبر ہوئی تو آپ روتے تھے اور فرماتے تھے۔شعر
اُٹھ گیا آج زمانہ سے ہمارا آقا اٹھ گیا آج نقیب چشم پیغمبر
اقبال کس کے لطف کا یہ فیض عام ہے رومی فنا ہوا حبشی کو دوام ہے

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6259