Main Icon

باب: منقبتوں کا مجموعہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6206

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: اِهْتَزَّ الْعَرْشُ لِمَوْتِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ وَفِي رِوَايَةٍ: اِهْتَزَّ عَرْشُ الرَّحْمٰنِ لِمَوْتِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن جابر قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: اهتز العرش لموت سعد بن معاذ وفي رواية: اهتز عرش الرحمن لموت سعد بن معاذ . (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں میں نے نبی صلی الله علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ سعد ابن معاذ کی موت سے عرش ہل گیا اور ایک روایت میں یوں ہے کہ فرمایا رحمان کا عرش سعد ابن معاذ کی موت سے ہل گیا ۱∞؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎حدیث شریف بالکل ظاہری معنی پر ہے اس میں کسی تاویل کی ضرورت نہیں واقعی عرش اعظم نے حرکت کی تھی جیسے احد شریف حضور کی قدم شریف پڑنے پر ہلا تھا،رب فرماتاہے:"وَ اِنَّ مِنْھَا لَمَا یَہۡبِطُ مِنْ خَشْیَۃِ اللهِ" عرش میں حس و حرکت ہے،رہا یہ کہ کیوں ہلا اس میں چند احتمال ہیں: (۱)آپ کی روح جب عرش پر پہنچی تو وہ نہایت خوشی سے جھوما(۲)حاملین عرش کو مطلع کرنے کے لیے اس نے جنبش کی(۳)آپ کی روح کی تعظیم و تکریم کے لیے ہلا۔اعلٰی حصرت فرماتے ہیں۔شعر
واسطہ محبوب کا دنیا میں جو سنی مرے یوں نہ فرمائیں ترے شاہد کہ وہ فاجر گیا
عرش پر دھومیں مچیں وہ بندہ صالح ملا فرش پر ماتم پڑے وہ طیب و طاہر گیا
بعض شارحین نے کہا کہ اس سے مراد حاملین عرش ملائکہ جھوم گئے مگر پہلا قول قوی ہے۔خیال رہے سعد ابن معاذ انصاری اشہلی اوسی ہیں،پہلی بیعت عقبہ کے بعد دوسری بیعت سے پہلے مدینہ منورہ میں ایمان لائے،آپ کے اسلام پر بہت سے بنی اشہل کے لوگ ایمان لائے،حضور نے آپ کو سید الانصار کا لقب دیا،آپ غزوہ بدرواحد میں شریک ہوئے، غزوہ خندق میں آپ کے کندھے پر تیر لگا وہ خون نہ ٹھہرا حتی کہ ذی قعدہ ۵ھ
؁ ∞پانچ میں وفات ہوگئی، ۳۷ سال عمر شریف ہوئی،بقیع میں دفن ہوئے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6206