Main Icon

باب: منقبتوں کا مجموعہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6245

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَسْلَمَ النَّاسُ وَآمَنَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وقال: هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَلَيْسَ إِسْنَادُهٗ بِالْقَوِيّ

وعن عقبة بن عامر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أسلم الناس وآمن عمرو بن العاص. رواه الترمذي وقال: هذا حديث غريب وليس إسناده بالقوي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عقبہ ابن عامر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ لوگ تو اسلام لائے مگر عمرو ابن عاص ایمان لائے ۱∞؎(ترمذی) اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے اس کی اسناد قوی نہیں۔

شرح حدیث

۱∞؎یہاں لوگوں سے مراد فتح مکہ کے دن اسلام لانے والے لوگ ہیں کہ وہ لوگ اس وقت ڈر و خوف سے مسلمان ہوگئے بعد میں اللہ کی رحمت حضور کی کرم نوازیوں سے پختہ مؤمن بنے مگر حضور عمرو ابن عاص جب شاہ حبشہ نجاشی کے دربار میں پہنچے وہاں شاهِ حبشہ کے ایمان لانے کی کیفیت دیکھی تو وہاں سے مدینہ منورہ آئے اور نہایت شوق و ذوق سے ایمان لائے بغیر کسی خوف یا لالچ کے۔ایک بار حضور انور نے انہیں ایسے لشکر کا امیر بنایا جس میں حضرت صدیق وفاروق بھی تھے پہلے آپ کے دل میں حضور سے اور صحابہ کرام سے سخت عداوت تھی پھر حضور پر ایسے فدا اور قربان ہوئے کہسبحان الله!خلافت فاروقی میں فاتح مصر آپ ہی ہیں،آپ فتح مکہ سے دو سال پہلے ایمان لائے اور حضور انور سے یہ شرط کرکے ایمان لائے کہ میرے سارے پچھلے گناہ بخش دیئے جاویں۔(مرقات و اشعہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6245