Main Icon

باب: منقبتوں کا مجموعہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6251

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ وَأبي طَلْحَةَ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَقْرِئْ قَوْمَكَ السَّلَامَ فَإِنَّهُمْ مَا عَلِمْتُ أَعِفَّةٌ صُبُرٌ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعن أنس وأبي طلحة قال: قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أقرئ قومك السلام فإنهم ما علمت أعفة صبر» . رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے وہ ابو طلحہ سے راوی ہیں کہ مجھے رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ اپنی قوم کو سلام کہو ۱∞؎کیونکہ جیسا میں جانتا ہوں وہ لوگ پاک باز صبر والے ہیں۲؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎اقرئاگر الف کے زبر اور رے کے کسرہ سے ہو تو اس کے بعدعلٰینہیں آتا اور اگر الف کے کسرہ اور رے کے فتحہ سے ہو تو بعد میںعلٰیآتا ہے،اقرئ علی فلانیہاں پہلی قراءۃ ہے۔غالبًا کسی جگہ انصار جمع ہوئے ہوں گے حضرت ابوطلحہ بھی وہاں جا رہے ہوں گے تب نبی کریم صلی الله علیہ و سلم نے اس قوم کو ان کے ذریعہ سلام کہلایا۔معلوم ہوا کہ کسی خاص شخص کو بھی سلام بھیجنا جائز ہے اور خاص قوم کو عام لوگوں کو بھی،یہاںقومكسے مراد انصار ہیں کیونکہ ابو طلحہ خود انصار ہیں۔
۲
؎یعنی ہم انصار کو سلام اس احترام کی وجہ سے بھیج رہے ہیں جو ان کا ہمارے دل میں ہے اور احترام کی وجہ ان کی یہ دو صفات ہیں تقویٰ پرہیزگاری اور مصیبتوں جہادوں میں صبر۔اعفہجمع ہےعفیفکی بمعنی پاک دامن،صبرص اور ب کے پیش سے جمعصابرکی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6251