Main Icon

باب: منقبتوں کا مجموعہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6219

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ:كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ فَقَالَ: «مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ وَمَنْ أَلْقَى السِّلَاحَ فَهُوَ آمِنٌ».فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ: أَمَّا الرَّجُلُ فَقَدْ أَخَذَتْهُ رَأْفَةٌ بِعَشِيرَتِهٖ وَرَغْبَةٌ فِي قَرْيَتِهٖ. وَنَزَلَ الْوَحْيُ عَلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «قُلْتُمْ أَمَّا الرَّجُلُ فَقَدْ أَخَذَتْهُ رَأْفَةٌ بِعَشِيرَتِهٖ وَرَغْبَةٌ فِي قَرْيَتِهٖ كَلَّا إِنِّي عَبْدُ اللّٰهِ وَرَسُولُهٗ هَاجَرْتُ إِلَى اللهِ وإلَيْكُمْ، الْمَحْيَا مَحْيَاكُمْ وَالْمَمَاتُ مَمَاتُكُمْ» قَالُوا: وَاللّٰهِ مَا قُلْنَا إِلَّا ضِنًّا بِاللّٰهِ

وعنه قال:كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم الفتح فقال: «من دخل دار أبي سفيان فهو آمن ومن ألقى السلاح فهو آمن».فقالت الأنصار: أما الرجل فقد أخذته رأفة بعشيرته ورغبة في قريته. ونزل الوحي على رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «قلتم أما الرجل فقد أخذته رأفة بعشيرته ورغبة في قريته كلا إني عبد الله ورسوله هاجرت إلى الله وإليكم، المحيا محياكم والممات مماتكم» قالوا: والله ما قلنا إلا ضنا بالله

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں کہ ہم رسول الله صلی الله علیہ و سلم کے ساتھ تھے فتح مکہ کے دن ۱؎تو فرمایا جو ابو سفیان کے گھر میں گھس جاوے اسے امان ہے اور جو ہتھیار کو رکھ دے اسے امان ہے ۲؎تو انصار بولے کہ ان محبوب کو اپنے کنبہ سے محبت اور اپنے وطن کی رغبت ہوگئی۳؎رسول الله صلی الله علیہ و سلم پر وحی نازل ہوگئی۴؎فرمایا کیا تم نے یہ کہا ہے کہ ان محبوب کو اپنے کنبہ کی محبت اپنے وطن کی رغبت ہوگئی ایسا ہرگز نہیں ہے ۵؎میں الله کا بندہ اور اس کا رسول ہوں،میں نے الله کی اور تمہاری طرف ہجرت کرلی ہے ۶؎اب میری زندگی تمہاری زندگی میں ہے اور میری وفات تمہاری موت میں ہے ۷؎وہ بولے کہ ہم نے جو کچھ کہا ہے الله رسول پر بخل کی وجہ سے ہے ۸؎فرمایا کہ الله رسول تمہاری تصدیق کرتے ہیں اور تم کو معذور جانتے ہیں ۹؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام ابوسفیان ابن صخر ابن حرب ہے،اموی قرشی ہیں،واقعہ فیل سے دس سال پہلے پیدا ہوئے،فتح مکہ کے دن اسلام لائے، غزوہ حنین میں شریک ہوئے،طائف کے غزوہ میں آپ کی ایک آنکھ شہید ہوئی،غزوہ یرموک میں دوسری آنکھ بھی شہید ہوگئی، ۳۴ھ؁ ∞میں مدینہ منورہ میں وفات ہوئی،بقیع شریف میں دفن ہوئے۔(اکمال،مرقات)
۲
؎یعنی جو بھی ہتھیار جنگ ڈال دے اپنے کو غیرمسلح کرلے اس کا بھی خون معاف ہے اسے امان ہے۔
۳
؎انصار کا حضور انور کوالرجلکہنا توہین کے لیے نہیں یہ لفظ عظمت و توقیر کے لیے بھی بولا جاتا ہے،فرشتے قبر میں حضور انور صلی الله علیہ و سلم کا جمال جہاں آرا دکھاکر پوچھتے ہیںما کنت تقول فی حق ھذا الرجلوہاں بھیالرجلتعظیم کے لیے ہے، ہاں اہانت یا برابری کے لیے حضور انور کورجلکہنا کفر ہے۔لہذا فقہاء کرام کا فرمان کہ حضور انور کورجلیارجیلکہنا کفر ہے بالکل درست ہے کہ وہاں توہین یا برابری کے دعویٰ کے لیے کہنا مراد ہے۔انصار نے جب یہ دیکھا کہ ابو سفیان،ہندہ،عکرمہ ابن ابوجہل کو معافی دے دی بلکہ ان پر انعام و اکرام کے دروازے کھول دیئے تب وہ سمجھے کہ شاید اب حضور انور مکہ معظمہ میں رہائش اختیار فرمالیں گے ہمارا مدینہ ویران ہوجاوے گا،وہ حضرات سمجھے کہ حضور کے عطیے اہل مکہ کی محبت کی بنا ء پر ہیں،جب حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو اہل مکہ سے اتنی محبت ہے تو لا محالہ خود مکہ معظمہ سے بھی محبت ہے،پھر آپ مکہ معظمہ کو اب کیوں چھوڑیں گے۔
۴
؎یعنی رب تعالٰی نے اپنے محبوب سے بذریعہ وحی فرمایا کہ آج فتح مکہ کی سب کو خوشی ہے انصار غمگین ہیں آپ کے فراق کے اندیشہ سے ان کا اندیشہ دور فرمایئے انہیں بھی خوش کیجئے۔
۵
؎یعنی میں نے ان لوگوں کو یہ عطیے اس وجہ سے نہیں دیئے ہیں کہ مجھے تمہارے مقابلہ میں ان سے زیادہ محبت ہوگئی اور میں تم کو چھوڑکر ان میں آن بسوں گا بلکہ ان پر عطایا کی بارش انہیں اسلام پر پختہ کرنے کے لیے ہے۔
۶
؎یعنی ہم الله کے بندے الله کے رسول ہیں اور رسول کے ہر کام میں استقامت ہوتی ہے ہم نے جو قدم اٹھایا وہ پیچھے نہ ہٹے گا ہم مہاجر بن کرغیر مہاجر نہ بنیں گے۔
۷
؎یعنی خاطر جمع رکھو اب میں اپنی زندگی اور موت میں تم کو نہیں چھوڑوں گا ہم تم ہی میں جئیں گے اور تم میں وفات پائیں گے۔
۸
؎یعنی یارسول الله ہم لوگ آپ پر بہت بخیل ہیں ہم نہیں چاہتے کہ آپ ہم کو چھوڑ کر اور جگہ رہیں؎نیناں میں جو آن بسو تو نیناں جھانپ ہی لوں ناہیں میں دیکھوں اور کو نا توئے دیکھن دوںسبحان الله!حضرات انصار مال کے ایسے سخی کہ انہوں نے اپنا سب کچھ حضور انور پر نچھاور کردیا مگر حضور پر ایسے بخیل کہ ذرا سی جدائی کی تاب نہیں اس بخل پر لاکھوں سخاوتیں نثار ہوں،یہ بخل عین عبادت بلکہ روح عبادات بلکہ جان ایمان ہے۔
۹
؎یعنی میں تم کو سچا اور محبت کا پکا مانتا ہوں میرا تم کو صادق جاننا رب تعالٰی کا جاننا ہے لہذا الله رسول تم کو سچا جانتے ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ الله رسول کے لیے ایک ضمیر تثنیہ لانا بالکل جائز ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6219