Main Icon

باب: منقبتوں کا مجموعہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6246

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: لَقِيَنِي رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "يَا جَابِرُ مَا لِي أَرَاكَ مُنْكَسِرًا" قُلْتُ: اسْتُشْهِدَ أَبِي عِيَالًا وَدَيْنًا قَالَ أَفَلَا أُبَشِّرُكَ بِمَا لَقِي اللهُ بِهٖ أَبَاكَ قَالَ قُلْتُ بَلٰى يَا رَسُولَ اللّٰهِ قَالَ مَا كَلَّمَ اللّٰهُ أَحَدًا قَطُّ إِلَّا مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ وَأَحْيَا أَبَاكَ فَكَلَّمَهُ كَفَاحًا فَقَالَ يَا عَبْدِي تَمَنَّ عَلَيَّ أُعْطِكَ قَالَ يَا رَبِّ تُحْيِينِي فَأُقْتَلُ فِيكَ ثَانِيَةً قَالَ الرَّبُّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: إِنَّهُ قَدْ سَبَقَ مِنِّي أَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُونَ"، فَنَزَلَتْ هٰذِهِ الآيَةُ: {وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللّٰهِ أَمْوَاتًا} الآيَةَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعن جابر قال: لقيني رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: "يا جابر ما لي أراك منكسرا" قلت: استشهد أبي عيالا ودينا قال أفلا أبشرك بما لقي الله به أباك قال قلت بلى يا رسول الله قال ما كلم الله أحدا قط إلا من وراء حجاب وأحيا أباك فكلمه كفاحا فقال يا عبدي تمن علي أعطك قال يا رب تحييني فأقتل فيك ثانية قال الرب تبارك وتعالى: إنه قد سبق مني أنهم لا يرجعون"، فنزلت هذه الآية: {ولا تحسبن الذين قتلوا في سبيل الله أمواتا} الآية. رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ملے تو فرمایا اے جابر کیا وجہ ہے کہ میں تم کو دل شکستہ دیکھتا ہوں ۱ ∞؎میں نے عرض کیا کہ میرے والد شہید ہوگئے اور بچے اور قرض چھوڑ گئے ۲؎فرمایا کیا میں تم کو اس کی بشارت نہ دوں جس سے اللہ نے تمہارے والد سے ملاقات کی ہے ۳؎میں نے عرض کیا ہاں یارسول اللہ فرمایا اللہ نے کسی سے بھی کبھی کلام نہ کیا مگر پردے کے پیچھے سے اور تمہارے والد کو زندہ کیا تو ان سے منہ در منہ کلام فرمایا۴؎فرمایا اے میرے بندے مجھ سے تمنا کر میں تجھے دوں گا۵؎انہوں نے عرض کیا اے رب مجھے زندہ کر تاکہ دوبارہ تیری راہ میں قتل کیا جاؤں۶؎تو رب تعالٰی نے فرمایا کہ ہمارا قانون جاری ہوچکا ہے کہ وفات یافتہ لوٹائے نہ جائیں گے۷؎تب یہ آیت اتری کہ جو اللہ کی راہ میں قتل کیے گئے انہیں مردہ نہ سمجھو۸؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎حضور انور کا یہ سوال واقعہ غزوہ احد کے بعد کا ہے جیساکہ جواب سے معلوم ہو رہا ہے۔یہ سوال عالی اگلی کرم نوازی کی تمہید ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ حضور انور امت کے دکھ درد سے بے خبر ہیں،حضور کو ہر ایک کے ہر درد کی خبر ہے،یہ سوال ایسا ہی ہے جیسے رب تعالٰی نے موسیٰ علیہ السلام سے پوچھا تھا"وَمَا تِلْكَ بِیَمِیۡنِكَ یٰمُوۡسٰی"اے موسیٰ تمہارے ہاتھ میں کیا ہے یہ اگلے کلام کی تمہید تھی۔
۲
؎یعنی مجھ پر غم کے پہاڑ ٹوٹ پڑے ہیں باپ کا سایہ سر سے اٹھ گیا،قرض اور بہنوں کا بوجھ مجھ ناتجربہ کار پر پڑگیا اب میں کیا کروں۔
۳
؎یعنی اے جابر اپنے والد کے اخروی درجات سنو جس سے تمہارا غم غلط ہوجاوے ان فکروں سے تمہاری توجہ ہٹ جاوے،آخرت کی نعمت ادھر کا دھیان ایسا ٹیکا ہے جس سے دنیا کے رنج و غم و تکالیف محسوس نہیں ہوتے۔
۴
؎یعنی بعد موت رب تعالٰی شہداء سے کلام تو فرماتا ہے مگر آج تک اس نے اپنا دیدار کسی شہید کو نہیں دیا تمہارے والد پہلے وہ شہید ہیں جنہیں دیدار بھی دیا کلام بھی کیا لہذا تمہارے والد شہداء میں دوسرے شہیدوں سے افضل ہیں۔
مسئلہ: اس زندگی میں بلاواسطہ رب نے کلام کسی سے نہ کیا سواء موسیٰ علیہ السلام کے،بعد وفات قیامت سے پہلے کسی کو دیدار نہیں دیا سواء عبداللہ کے،اس زندگی میں کسی کو اپنا دیدار نہیں دیا سواء ہمارے حضور کے جو معراج میں عطا ہوا،بعد موت ہرشخص رب کا کلام سنے گا
صدق عبد ییاکذب عبدییہ سننا قبر کے حساب کے بعد ہوگا اور مؤمن کو دیدار الٰہی قیامت میں ہوگا پھر جنت میں ہوا کرے گا۔
۵
؎یعنی رب تعالٰی نے ان کو اپنا دیدار بھی دیا اور بلاواسطہ کلام بھی اور کرم کا کیا۔معلوم ہوا کہ جو کچھ عالم ارواح میں ہورہا ہے حضور کی نظر مدینہ منورہ سے دیکھ رہی ہے اور جو کچھ وہاں گفتگو ہو رہی ہے حضور مدینہ منورہ سے سن رہے ہیں، جب لا مکان کے کام و کلام حضور یہاں دیکھ سن رہے ہیں تو یقینی بات ہے کہ ہر جگہ کے کام و کلام حضور سنتے دیکھتے ہیں کیونکہ مدینہ منورہ سے وہ عالم ارواح دور ہے ہمارا گجرات قریب ہے۔یہ بھی معلوم ہوا کہ بندہ اپنی زندگی میں رب کو راضی کرے توان شاءاللهبعد موت رب ہم کو راضی کرے گا،ہم یہاں اللہ رسول سے پوچھ پوچھ کر کام کریںان شاء اللهوہاں رب تعالٰی ہم سے پوچھ پوچھ کر انعام دے گا۔
۶
؎یعنی مجھے جو مزہ تیری راہ میں سر کٹانے میں آیا وہ کسی چیز میں نہ آیا مولٰی تمنا ہے کہ پھر دنیا میں جاؤں اور تیرے نام پر سر کٹاؤں۔
۷
؎یعنی ہمارا یہ قانون نہیں کہ جسے امتحان لے کر پاس کردیں،اس کا دوبارہ امتحان لیں تم تو اول نمبر پاس ہو کر آگئے اب دوبارہ امتحان کیسا۔خیال رہے کہ مرنے کے بعد دنیا میں لوٹ کر نہ آنا یہ رب کا قانون ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دعا پر مردوں کا زندہ ہو کر آنا یہ ان کی خصوصیت ہے قانون اور خصوصیات میں فرق ہے،یوں ہی حضور انور کا اپنے والدین کو زندہ کرنا انہیں کلمہ پڑھانا صحابی بنانا حضور کی خصوصیات سے ہے۔
۸
؎یہاں تو ارشاد ہے کہ شہداء کو مردہ مت سمجھو مگر دوسری جگہ ارشاد ہے کہ شہداء کو مردہ نہ کہو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6246