- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 8
- فضائل کا بیان
- حدیث نمبر 6246
باب: منقبتوں کا مجموعہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6246
فضائل کا بیان - جلد 8
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
- حدیث
-
- 6196
- 6197
- 6198
- 6199
- 6200
- 6201
- 6202
- 6203
- 6204
- 6205
- 6206
- 6207
- 6208
- 6209
- 6210
- 6211
- 6212
- 6213
- 6214
- 6215
- 6216
- 6217
- 6218
- 6219
- 6220
- 6221
- 6222
- 6223
- 6224
- 6225
- 6226
- 6227
- 6228
- 6229
- 6230
- 6231
- 6232
- 6233
- 6234
- 6235
- 6236
- 6237
- 6238
- 6239
- 6240
- 6241
- 6242
- 6243
- 6244
- 6245
- 6246
- 6247
- 6248
- 6249
- 6250
- 6251
- 6252
- 6253
- 6254
- 6255
- 6256
- 6257
- 6258
- 6259
- 6260
- 6261
- 6262
- 6263
- 6264
- 6265
- اگلا
حدیث مبارکہ
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: لَقِيَنِي رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "يَا جَابِرُ مَا لِي أَرَاكَ مُنْكَسِرًا" قُلْتُ: اسْتُشْهِدَ أَبِي عِيَالًا وَدَيْنًا قَالَ أَفَلَا أُبَشِّرُكَ بِمَا لَقِي اللهُ بِهٖ أَبَاكَ قَالَ قُلْتُ بَلٰى يَا رَسُولَ اللّٰهِ قَالَ مَا كَلَّمَ اللّٰهُ أَحَدًا قَطُّ إِلَّا مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ وَأَحْيَا أَبَاكَ فَكَلَّمَهُ كَفَاحًا فَقَالَ يَا عَبْدِي تَمَنَّ عَلَيَّ أُعْطِكَ قَالَ يَا رَبِّ تُحْيِينِي فَأُقْتَلُ فِيكَ ثَانِيَةً قَالَ الرَّبُّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: إِنَّهُ قَدْ سَبَقَ مِنِّي أَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُونَ"، فَنَزَلَتْ هٰذِهِ الآيَةُ: {وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللّٰهِ أَمْوَاتًا} الآيَةَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
وعن جابر قال: لقيني رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: "يا جابر ما لي أراك منكسرا" قلت: استشهد أبي عيالا ودينا قال أفلا أبشرك بما لقي الله به أباك قال قلت بلى يا رسول الله قال ما كلم الله أحدا قط إلا من وراء حجاب وأحيا أباك فكلمه كفاحا فقال يا عبدي تمن علي أعطك قال يا رب تحييني فأقتل فيك ثانية قال الرب تبارك وتعالى: إنه قد سبق مني أنهم لا يرجعون"، فنزلت هذه الآية: {ولا تحسبن الذين قتلوا في سبيل الله أمواتا} الآية. رواه الترمذي
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ملے تو فرمایا اے جابر کیا وجہ ہے کہ میں تم کو دل شکستہ دیکھتا ہوں ۱ ∞؎میں نے عرض کیا کہ میرے والد شہید ہوگئے اور بچے اور قرض چھوڑ گئے ۲؎فرمایا کیا میں تم کو اس کی بشارت نہ دوں جس سے اللہ نے تمہارے والد سے ملاقات کی ہے ۳؎میں نے عرض کیا ہاں یارسول اللہ فرمایا اللہ نے کسی سے بھی کبھی کلام نہ کیا مگر پردے کے پیچھے سے اور تمہارے والد کو زندہ کیا تو ان سے منہ در منہ کلام فرمایا۴؎فرمایا اے میرے بندے مجھ سے تمنا کر میں تجھے دوں گا۵؎انہوں نے عرض کیا اے رب مجھے زندہ کر تاکہ دوبارہ تیری راہ میں قتل کیا جاؤں۶؎تو رب تعالٰی نے فرمایا کہ ہمارا قانون جاری ہوچکا ہے کہ وفات یافتہ لوٹائے نہ جائیں گے۷؎تب یہ آیت اتری کہ جو اللہ کی راہ میں قتل کیے گئے انہیں مردہ نہ سمجھو۸؎(ترمذی)
شرح حدیث
۱∞؎حضور انور کا یہ سوال واقعہ غزوہ احد کے بعد کا ہے جیساکہ جواب سے معلوم ہو رہا ہے۔یہ سوال عالی اگلی کرم نوازی کی تمہید ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ حضور انور امت کے دکھ درد سے بے خبر ہیں،حضور کو ہر ایک کے ہر درد کی خبر ہے،یہ سوال ایسا ہی ہے جیسے رب تعالٰی نے موسیٰ علیہ السلام سے پوچھا تھا"وَمَا تِلْكَ بِیَمِیۡنِكَ یٰمُوۡسٰی"اے موسیٰ تمہارے ہاتھ میں کیا ہے یہ اگلے کلام کی تمہید تھی۔
۲؎یعنی مجھ پر غم کے پہاڑ ٹوٹ پڑے ہیں باپ کا سایہ سر سے اٹھ گیا،قرض اور بہنوں کا بوجھ مجھ ناتجربہ کار پر پڑگیا اب میں کیا کروں۔
۳؎یعنی اے جابر اپنے والد کے اخروی درجات سنو جس سے تمہارا غم غلط ہوجاوے ان فکروں سے تمہاری توجہ ہٹ جاوے،آخرت کی نعمت ادھر کا دھیان ایسا ٹیکا ہے جس سے دنیا کے رنج و غم و تکالیف محسوس نہیں ہوتے۔
۴؎یعنی بعد موت رب تعالٰی شہداء سے کلام تو فرماتا ہے مگر آج تک اس نے اپنا دیدار کسی شہید کو نہیں دیا تمہارے والد پہلے وہ شہید ہیں جنہیں دیدار بھی دیا کلام بھی کیا لہذا تمہارے والد شہداء میں دوسرے شہیدوں سے افضل ہیں۔
مسئلہ: اس زندگی میں بلاواسطہ رب نے کلام کسی سے نہ کیا سواء موسیٰ علیہ السلام کے،بعد وفات قیامت سے پہلے کسی کو دیدار نہیں دیا سواء عبداللہ کے،اس زندگی میں کسی کو اپنا دیدار نہیں دیا سواء ہمارے حضور کے جو معراج میں عطا ہوا،بعد موت ہرشخص رب کا کلام سنے گاصدق عبد ییاکذب عبدییہ سننا قبر کے حساب کے بعد ہوگا اور مؤمن کو دیدار الٰہی قیامت میں ہوگا پھر جنت میں ہوا کرے گا۔
۵؎یعنی رب تعالٰی نے ان کو اپنا دیدار بھی دیا اور بلاواسطہ کلام بھی اور کرم کا کیا۔معلوم ہوا کہ جو کچھ عالم ارواح میں ہورہا ہے حضور کی نظر مدینہ منورہ سے دیکھ رہی ہے اور جو کچھ وہاں گفتگو ہو رہی ہے حضور مدینہ منورہ سے سن رہے ہیں، جب لا مکان کے کام و کلام حضور یہاں دیکھ سن رہے ہیں تو یقینی بات ہے کہ ہر جگہ کے کام و کلام حضور سنتے دیکھتے ہیں کیونکہ مدینہ منورہ سے وہ عالم ارواح دور ہے ہمارا گجرات قریب ہے۔یہ بھی معلوم ہوا کہ بندہ اپنی زندگی میں رب کو راضی کرے توان شاءاللهبعد موت رب ہم کو راضی کرے گا،ہم یہاں اللہ رسول سے پوچھ پوچھ کر کام کریںان شاء اللهوہاں رب تعالٰی ہم سے پوچھ پوچھ کر انعام دے گا۔
۶؎یعنی مجھے جو مزہ تیری راہ میں سر کٹانے میں آیا وہ کسی چیز میں نہ آیا مولٰی تمنا ہے کہ پھر دنیا میں جاؤں اور تیرے نام پر سر کٹاؤں۔
۷؎یعنی ہمارا یہ قانون نہیں کہ جسے امتحان لے کر پاس کردیں،اس کا دوبارہ امتحان لیں تم تو اول نمبر پاس ہو کر آگئے اب دوبارہ امتحان کیسا۔خیال رہے کہ مرنے کے بعد دنیا میں لوٹ کر نہ آنا یہ رب کا قانون ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دعا پر مردوں کا زندہ ہو کر آنا یہ ان کی خصوصیت ہے قانون اور خصوصیات میں فرق ہے،یوں ہی حضور انور کا اپنے والدین کو زندہ کرنا انہیں کلمہ پڑھانا صحابی بنانا حضور کی خصوصیات سے ہے۔
۸؎یہاں تو ارشاد ہے کہ شہداء کو مردہ مت سمجھو مگر دوسری جگہ ارشاد ہے کہ شہداء کو مردہ نہ کہو۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6246